The news is by your side.

Advertisement

سوشل میڈیا پر گردش کرتی یہ تصویر کس کی ہے؟

پشاور: سوشل میڈیا پر ایک بچی کا فٹ بال کو کک لگانے والی ایک تصویر کئی دن سے گردش کر رہی ہے، ٹویٹر اور دیگر سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر مختلف شعبہ ہائے سے زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگ اسکول یونی فارم پہنے بال کو ماہر فٹ بالر کی طرح کک لگاتی بچی کی تصویر شیئر کر رہے ہیں۔

اے آر وائی نیوز نے اس بچی کے بارے میں معلومات حاصل کر لی ہیں، معلوم ہوا ہے کہ فٹ بال کو کک لگاتی یہ بچی تیسری جماعت کی طالبہ عاصمہ حافظ ہے اور اس کا تعلق جنوبی وزیرستان کے ایک پس ماندہ علاقے وانا تنائی سے ہے۔

عاصمہ حافظ تعلیم حاصل کر کے ڈاکٹر بننے کی خواہش مند ہے لیکن ان کے علاقے میں اسکولوں کی کمی عاصمہ جیسے بچوں کی مستقبل کے لیے بڑا چیلنچ ہے۔

دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا وزیرستان جہاں آئے روز دھماکوں اور دہشت گردی کے واقعات سے علاقہ مکین غیر یقینی کی کیفیت میں زندگی گزارنے پر مجبور تھے، سیکیورٹی فورسز کی جانب سے امن دشمنوں کے خلاف کارروائیوں سے اب وہاں حالات قدرے بہتر ہیں، یہی وجہ ہے کہ عاصمہ حافظ جیسی گڑیا اب کھیل کے میدان جا کر فٹ بال کو کک لگا کر دنیا کو پیغام دے رہی ہے کہ ہم بھی کسی سے کم نہیں۔

عاصمہ حافظ کے بھائی حمزہ حافظ جو ایبٹ آباد کامسیٹس یونی ورسٹی میں انجنیئرنگ کے طالب علم ہیں، نے اے آر وائی نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا ہم بہت خوش ہیں کہ ہماری بہن کی وجہ سے علاقے کا بہتر امیج سامنے آ رہا ہے، ہماری خواہش ہے کہ بہن بھی اعلیٰ تعلیم حاصل کر لے لیکن علاقے میں اسکولوں کی کمی ایک بڑا مسئلہ ہے۔

حمزہ حافظ نے کہا جس علاقے سے ہم تعلق رکھتے ہیں وہاں پر بچوں کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے اس وقت کوئی سرکاری اسکول نہیں ہے، ایک سرکاری اسکول تو موجود ہے لیکن وہ کئی سالوں سے بند پڑا ہے، اور جس اسکول میں عاصمہ اور دیگر بچے پڑھ رہے ہیں وہ بھی ہمارے گھر سے 2 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع پرائیویٹ اسکول ہے۔

حمزہ نے بتایا کہ واحد نجی اسکول میں بچے اور بچیاں اکھٹے تعلیم حاصل کر رہے ہیں، جس کی وجہ سے علاقے کی بچیاں پانچویں تک تعلیم حاصل کرتی ہیں لیکن پھر اسکول نہ ہونے کی وجہ سے تعلیم چھوڑ دیتی ہیں۔

حمزہ حافظ نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ہمارے علاقے میں تعلیمی ترقی کے لیے جلد اقدامات کیے جائیں۔

حمزہ حافظ کا کہنا تھا کہ والدین کی خواہش ہے عاصمہ حافظ تعلیم حاصل کر کے ڈاکٹر بنے کیوں کہ ہمارے علاقے میں کوئی خاتون ڈاکٹر نہیں ہے، ہم چاہتے ہیں کہ عاصمہ ڈاکٹر بن کر علاقے کی خدمت کرے، عاصمہ کو تعلیم حاصل کرنے کا بہت شوق ہے، جب اسکول میں اسپورٹ گالا ہوتا ہے تو اس میں بھی حصہ لیتی ہے۔

واضح رہے کہ عاصمہ کی فٹبال کو کک مارتی تصویر سوشل میڈیا صارفین نے بھی حوصلہ افزا اور تعریفی کلمات کے ساتھ شیئر کی، ایک صحافی نے لکھا کہ یہ آج کی سب سے بہترین تصویر ہے، وزیرستان سے تعلق رکھنے والے سابق ترجمان خیبر پختون خوا حکومت اجمل وزیر نے تصویر پوسٹ کرتے ہوئے لکھا کہ کسی نے بالکل سچ ہی کہا ہے کہ کبھی کبھی ایک تصویر کا ہزار الفاظ مقابلہ نہیں کر سکتے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں