The news is by your side.

Advertisement

نواسۂ رسول امام حسن کا 1437 واں یومِ ولادت

آج نواسہ رسول امام حسنؑ کا 1437 واں یوم ولادت ہے، آپ ہجرت کے تیسرے سال مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے، حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے بعد آپ تقریباً چھ ماہ مسندِ خلافت پر فائز رہے۔

امام حسن ابن علیؑ اسلام کے دوسرے امام تھے اور حضرت علی علیہ السلام اور حضرت فاطمۃ الزھرا علیہا السلام کے بڑے بیٹے اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور حضرت خدیجہ علیہا السلام کے بڑے نواسے تھے۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مشہور حدیث کے مطابق آپ جنت کے نوجوانوں کے سردار ہیں۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کا نام حسن رکھا تھا۔ یہ نام اس سے پہلے کسی کا نہ تھا۔ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان سے بے پناہ محبت کرتے تھے۔ ان کا نام حسن، لقب ‘مجتبیٰ’ اور کنیت ابو محمد تھی۔

ولادت با سعادت


آپ 15 رمضان المبارک 3 ہجری کو مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے۔ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے گھر میں آپ کی پیدائش اپنی نوعیت کی پہلی خوشی تھی . جب مکہ مکرمہ میں رسول ﷺکے بیٹے یکے بعد دیگرے دنیا سے جاتے رہے تو مشرکین طعنے دینے لگے اور آپ کو بڑا صدمہ پہنچا اور آپ کی تسلّی کے لیے قرآن مجید میں سورہ الکوثر نازل ہوئی جس میں آپ کوخوش خبری دی گئی ہے کہ خدا نے آپ کو کثرتِ اولاد عطا فرمائی ہے اور مقطوع النسل آپ نہیں بلکہ آپ کا دشمن ہوگا۔آپ کی ولادت سے پہلے حضرت ام الفضل رضی اللہ عنہا نے خواب دیکھا کہ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے جسم کا ایک ٹکڑا، ان کے گھر آ گیا ہے۔ انہوں نے رسولِ خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے تعبیر پوچھی تو انہوں فرمایا کہ عنقریب میری بیٹی فاطمہ کے بطن سے ایک بچہ پیدا ہوگا جس کی پرورش تم کرو گی۔

ولادت کے ساتویں دن عقیقہ کی رسم ادا ہوئی اورپیغمبر اسلام ﷺنے بحکم خدا اپنے اس فرزند کا نام حسن علیہ السلام رکھا۔یہ نام اسلام کے زمانے سے پہلے نہیں ہوا کرتا تھا۔ سب سے پہلے رسول اللہ کے بڑے نواسے کا نام قرار پایا۔ آپ کی ولادت کے بعد آپ کے نانا حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دعا فرمائی کہ اے اللہ اسے اور اس کی اولاد کو اپنی پناہ میں رکھنا۔

تربیت


حضرت امام حسن علیہ السلام کو تقریباً آٹھ برس اپنے نانا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سایہ عاطفت میں رہنے کا موقع ملا۔ رسالت مآبﷺ اپنے اس نواسے سے جتنی محبت فرماتے تھے اس کے واقعات دیکھنے والوں نے ہمیشہ یا درکھے۔ اکثر محبت اور فضیلت کی حدیثیں حسن علیہ السّلام اور حسین علیہ السّلام دونوں صاحبزادوں کے لیے مشترکہ طور پر بیان کی گئی ہیں، مثلاً حسن علیہ السّلام وحسین علیہ السّلام جوانانِ بہشت کے سردار ہیں۔

فضائل


’’خداوند میں ان دونوں سے محبت رکھتا ہوں تو بھی ان کو محبوب رکھنا‘‘ اور اس طرح کے بےشمار ارشادات پیغمبر کے دونوں نواسوں کے بارے میں کثرت سے ہیں، ان کے علاوہ ان کی ایک خصوصیت یہ تھی کہ عام قاعدہ یہ ہے کہ اولاد کی نسبت باپ کی جانب ہوتی ہے مگررسول اللہ ﷺنے اپنے ان دونوں نواسوں کی یہ خصوصیت صراحت کے ساتھ بتائی کہ انھیں میرا نواسا ہی نہیں بلکہ میرا فرزند کہنا درست ہے۔

اخلاقِ حسن


امام حسن علیہ السّلام کی ایک غیر معمولی صفت جس کے دوست اور دشمن سب معترف تھے ۔وہ یہی حلم کی صفت تھی جس کا اقرار مروان بن الحکم نے بھی کیا ، جو کہ اموی خانوادے سے تعلق رکھتا تھا۔ خیال رہے کہ بنی ہاشم اور بنی امیہ کے درمیان ہمیشہ ایک مخاصمت کی فضا قائم رہی۔ حکومت ُ شام کے حامی صرف اس لیے جان بوجھ کر سخت کلامی اور بد زبانی کرتے تھے کہ امام حسن علیہ السّلام کو غصہ آجائے اور کوئی ایسا اقدام کردیں جس سے آپ پر عہد شکنی کاالزام عائد کیا جاسکے اور مسلمانوں کے درمیان جنگ کے شعلے بھڑکائے جاسکیں، مگر آپ ایسی صورتوں میں حیرتناک قوت ُ برداشت سے کام لیتے تھے جو کسی عام انسان کے بس کی بات نہیں ہے ۔

آپ کی سخاوت اور مہمان نوازی بھی عرب میں مشہور تھی . آپ نے تین مرتبہ اپنا تما م مال راہ خدا میں لٹا دیا اور دو مرتبہ تمام ملکیت، یہاں تک کہ اثاث البیت اور لباس تک راہِ خدا میں دے دیا۔

وفات


امام حسن کا زمانہ ایک پرآشوب دور تھا۔ روایت ہے کہ اشعث بنِ قیس کی بیٹی جعدہ جو حضرت امام حسن علیہ السّلام کی زوجیت میں تھی اس کے ذریعہ سے شورش پسندوں نے حضرت حسن علیہ السّلام کو زہر دلوایا ۔ زہر اس قدر قاتل اور سریع الاثر تھا کہ امام حسن علیہ السّلام کے کلیجے کے ٹکڑے ہوگئے ، اور خون کی الٹیوں میں گوشت کے لوتھڑے آنے لگے ۔

ایسے وقت میں کہ جب امام نے جان لیا کہ اب ان کا وقت رخصت آن پہنچا ہے تو آپ نے اپنے بھائی حضرت امام حسین علیہ السّلام کو پاس بلایا اوراسرارِ امامت اور اہل بیت ان کے سپرد کرتے ہوئے وصیت کی ،’’ اگر ممکن ہو تو مجھے جدِ بزرگوار رسولِ خدا ﷺکے ساتھ دفن کرنا لیکن اگراس میں مزاحمت ہو تو ایک قطرہ خون گرنے نہ پائے ، میرے جنازے کو واپس لے آنا اور جنت البقیع میں دفن کرنا‘‘۔

تدفین


ماہ ٔ صفر کی اٹھائیس تاریخ ، سنہ 50ہجری کو امام حسن علیہ السّلام زہر کے زیر اثر اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔امام حسین ؑ نے وصیت کے مطابق ان کی تدفین روزہ رسول ﷺ میں کرنا چاہی ، تاہم سیاسی ماحول او مدینے میں شورش پھیلنے کے اندیشے کے سبب ا مام حسن علیہ السّلام کا جنازہ واپس گھرلایا گیا، اس کے بعد ان کی تدفین ان کی والدہ جناب فاطمہ الزھراء کی لحد کے نزدیک جنت البقیع میں کی گئی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں