کیوبک مسجد میں فائرنگ کر کے چھ نمازیوں کو شہید کرنے والا خود ایک شکار ہے
The news is by your side.

Advertisement

نمازیوں کا قاتل خود ایک ’’شکار‘‘ ہے، کیوبک امام

کیوبک : کیوبک مسجد کے پیش امام حسن گلیٹ نے کہا کہ مسجد میں فائرنگ کر کے چھ نمازیوں کو شہید کرنے والا نوجوان خود ایک شکار ہے۔

یہ بات امامِ مسجد نے فائرنگ سے جاں بحق ہونے والے چھ میں سے تین افراد کی نماز جنازہ ادا کرنے کے بعد خطبہ دے رہے تھے انہوں نے کہا ہم سب یہاں شہید ہونے والے افراد کو یاد کرنے کے لیے اور انہیں ایصال ثواب پہنچانے کے لیے جمع ہوئے ہیں لیکن ہم سے کوئی بھی اس قاتل کے بارے میں نہیں سوچ رہا۔

انہوں نے کہا ہم قاتل کو سفاک سمجھ کر اس کے بارے میں بات کرنے سے بھی کترا رہے ہیں جب کہ قاتل کا عمل قابل نفرت ہے لیکن مجرم رحم کا مستحق ہے کیوں کہ قاتل خود ایک شکا ر ہے وہ شکار ہے نفرت آمیز اس سوچ کا جو اس کے دماغ میں بیٹھائی گئی اور جسے اس کے عقیدے کا حصہ بنایا گیا۔


 ملزم سفید فام قوم کی برتری چاہتا تھا، دوست کا انکشاف*


یہ نفرت آمیز خیالات، نسلی تعصب اور عقائد لوگوں کو تشدد پر آ،مادہ کرتے ہیں اور بد قسمتی سے نوجوان اس پہلا شکار بنتے ہیں جو بنا سوچے سمجھے محض جذبات کی رو میں بہہ کر انتہائی قدم اُٹھا لیتے ہیں اور نفرت پھیلانے والوں کا شکار بن جاتے ہیں۔


کینیڈا میں مسجد پر فائرنگ ‘6 نمازی شہید*


امام حسن کا کہنا تھا کہ قاتل الیگزینڈر نے گولیوں سے نمازیوں کا شکار کیا اور انہیں موت کی نیند سلا دیا جب کہ خود اس کے ذہن کو نفرت آمیز الفاظ سے نشانہ بنایا گیا جو گولیوں سے زیادہ خطرناک ہوتی ہے اور شدید نقصان پہنچاتی ہے۔

امام مسجد نے کہا کہ جہاں اسلحہ ، بارود اور گولیوں پر پابندی عائد کرنے کی ضرورت ہے وہیں نفرت آمیز خیالات اور پُرتشدد عقائد پر بھی پابندی عائد کرنی ہوگی ورنہ یہ وباء ہماری نوجوان نسل کو کھا جائے گی۔

واضح رہے گزشتہ ماہ 27 سالہ نوجون الیگزینڈر نے کیوبک کی ایک مسجد میں حملہ کر کے 6 نمازیوں کو موت نیند سلا دیا تھا اور پولیس کے ہاتھوں کے گرفتار ہو گیا تھا جس کے بعد ملزم کا کہنا تھا کہ وہ کینیڈا میں صرف سفید فام لوگوں کی آمد کا خواہاں ہے اور کسی دوسرے کو کینیڈا آنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں