The news is by your side.

Advertisement

ورلڈ کپ میں کافی کچھ سیکھا کافی غلطیاں بھی کی ہیں: امام الحق، بابر اعظم

لاہور: قومی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں بابر اعظم اور امام الحق کا کہنا ہے کہ ورلڈ کپ میں کافی کچھ سیکھا کافی غلطیاں بھی کی ہیں، بدقسمتی سے سیمی فائنل تک نہ پہنچ سکے۔

تفصیلات کے مطابق قومی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں بابر اعظم اور امام الحق نے پریس کانفرنس کی۔ پریس کانفرنس میں بابر اعظم کا کہنا تھا کہ میرا پہلا ورلڈ کپ تھا پہلے ہاف میں 2 میچ ہارے، سب نے اچھا پرفارم کیا۔ کافی کچھ سیکھا کافی غلطیاں بھی کی ہیں۔

بابر اعظم نے کہا کہ ہم اپنا 100 فیصد دے رہے تھے، انگلینڈ کے ساتھ سیریز اچھی رہی تھی۔ وکٹ دیکھ کر پلان کرنا ہوتا ہے۔ کوچ کا فیصلہ ہوتا ہے کس کو کھلانا ہے کس کو نہیں۔ ’میرے خیال سے ورلڈ کپ انگلینڈ کو جیتنا چاہیئے، ہمیں نہیں پتہ بھارت جان کر ہارا ہے یا واقعی شکست ہوئی‘۔

انہوں نے کہا کہ ہماری ٹیم کے سینئرز نے کبھی شو نہیں کروایا کہ وہ سینئر ہیں، ہمیں کبھی سوچنے بھی نہیں دیا کسی نے کہ وہ سینئرز ہیں۔ 15 کھلاڑیوں میں سے کوئی ریلو کٹا نہیں تھا۔

امام الحق کا کہنا تھا کہ تجربہ اچھا تھا، بدقسمتی سے سیمی فائنل تک نہ پہنچ سکے۔ انسان کافی غلطیوں سے سیکھتا ہے میں بھی سیکھوں گا۔ ٹیم میں رکھنا ہے یا نہیں یہ کام پاکستان کرکٹ بورڈ کا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم جس طرح کھیلنے گئے تھے باقی ٹیمیں بھی کھیلنے آئی تھیں، ہمارے بلے بازوں نے اچھی پرفارمنس کی کوشش کی۔ 9 میں سے 5 میچ جیتے، اپنی کارکردگی مزید بہتر کروں گا۔ سب کا احترام ہے کوشش کرتا ہوں فینز خوش رہیں۔

امام الحق کا کہنا تھا کہ کوشش ہوتی ہے دورے پر سوشل میڈیا استعمال نہ کروں، ہماری بھی فیملی اور ذاتی زندگی ہے، تنقید کی ایک حد ہوتی ہے۔ ہر شخص پر نظر رکھیں گے تو پرفارم کرنا مشکل ہوتا ہے، تمام کھلاڑی محنت کرتے ہیں ہار کسی کو اچھی نہیں لگتی۔ ’پرفارمنس پر تنقید کریں مگر کسی کی ذاتیات میں نہ جائیں‘۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان کی ٹیم میں ورلڈ کلاس اسپنرز تھے، افغانستان نے میچ میں بھارت کو بھی ٹف ٹائم دیا۔ جس طرح عماد وسیم نے میچ جتوایا اس پر توجہ دینی چاہیئے، آسٹریلیا کے خلاف میچ میں میری وجہ سے شروع میں ناکامی ہوئی۔ بھارت سے ہار جائیں تو ہر چیز پر تنقید ہوتی ہے، ایسا کبھی نہیں ہو سکتا تنقید نہ ہو۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں