اسلام آباد (29 جنوری 2026): ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی گرفتاری اور سزا کے بعد عدالتی ریمارکس پر اسلام آباد ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن نے ردعمل میں کہا ہے کہ ان کی گرفتاری میں بار کے ملوث ہونے کے عدالتی ریمارکس میں کوئی صداقت نہیں ہے۔
سیکریٹری منظور ججہ نے کہا ماضی میں ہائیکورٹ بار کے صدر رہنے والے معزز جج صاحب کے بار سے متعلق ریمارکس افسوس ناک ہیں، بار سے متعلق چیزیں اور معاملات احسن انداز میں چلائی جا رہی ہیں، بار کے معاملات چلانے کے لیے بار کونسلز موجود ہیں، ججز ریمارکس نہ دیں۔
انھوں نے کہا وکلا کے پاس قلم اور دلیل ہوتی ہے، ان کے پاس گن نہیں ہوتی جس سے وہ بات کریں، بار قانون کے مطابق چلتی ہے اور اپنے وکلا کے ساتھ کھڑی ہوتی ہے، ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے کیس کو چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے ترجیحی بنیاد پر مقرر کیا تھا اور جو بھی کیسز سامنے آئے ان کو چیف جسٹس نے مقرر کیا۔
منظور ججہ نے کہا ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ دو روز تک اسلام آباد ہائیکورٹ بار کے آفس میں رہے، بار کی استدعا پر جسٹس اعظم خان نے دونوں کو نہ صرف عبوری ضمانت دی بلکہ سیشن کورٹ میں جاری کارروائی پر بھی ریلیف دیا، اس کے بعد بار کی استدعا پر ایک پرانے مقدمے میں بھی عبوری ضمانت دی گئی، لیکن عدالتی وقت ختم ہونے اور چیف جسٹس کے جانے کے بعد ان کی نامعلوم مقدمے میں ضمانت قبل از وقت گرفتاری کا کیس مقرر نہ ہو سکا۔
ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی گرفتاری اور سزا کے خلاف وکلاء کی ہڑتال
بار کے سیکریٹری نے کہا ہم نے نہ صرف دو روز تک ان کی گرفتاری کو روکے رکھا بلکہ بار ان کے ساتھ کھڑی رہی، ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی گرفتاری پر بار نے نہ صرف ہڑتال کی بلکہ سخت مزاحمت کی، اور ڈسٹرکٹ بار اور اسلام آباد بار کونسل بھی ہمارے شانہ بشانہ کھڑی رہیں۔
انھوں نے واضح کیا کہ دونوں وکلا کی گرفتاری پر ہم نے پولیس کا کچہری میں نہ صرف داخلہ بند کیا بلکہ ریلی نکالی۔ واضح رہے کہ جسٹس محسن اختر کیانی نے دونوں وکلا کی گرفتاری میں ہائیکورٹ بار کے ملوث ہونے کے ریمارکس دیے تھے۔


