اسلام آباد : آئی ایم ایف نے رواں مالی پاور سیکٹر کا گردشی قرضہ میں زیرو اِن فلو کا مطالبہ کردیا، جس جس پر پاکستانی حکام نے یقین دہانی کرائی کہ اس سال قرضے کے بوجھ میں اضافہ نہیں ہونے دیا جائے گا۔
تفصیلات کے مطابق پاکستان اور انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان موجودہ قرض پروگرام پر مذاکرات کے دوسرے دور میں توانائی اور ٹیکس کے حوالے سے طویل تکنیکی بات چیت ہوئی۔
ذرائع نے بتایا کہ وفد کو موجودہ مالی چیلنجز، سیلاب سے ہونے والے نقصانات اور محصولات کی صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
وفاقی بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے آئی ایم ایف کو آگاہ کیا کہ حالیہ سیلاب کی وجہ سے محصولات کے مقررہ اہداف حاصل کرنے میں مشکلات درپیش ہیں۔ مذاکرات میں گردشی قرضے، کیپٹو پاور پلانٹس پر لیوی اور ٹیرف ریبیسنگ پر خصوصی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ذرائع کا کہنا تھا کہ پاکستان نے آئی ایم ایف سے پاور سیکٹر کا گردشی قرضہ 3 سے 6 برسوں میں ختم کرنے کا پلان شیئر کیا۔
بریفنگ میں کہا گیا کہ بینکوں سے ہونے والی 1.2 ٹریلین روپے کی ڈیل کے بعد گردشی قرضہ کم ہو کر 400 ارب روپے تک محدود ہو چکا ہے۔
آئی ایم ایف نے موجودہ مالی سال میں پاور سیکٹر کے گردشی قرضے میں ’’زیرو اِن فلو‘‘ کا مطالبہ کیا، جس پر پاکستانی حکام نے یقین دہانی کرائی کہ اس سال قرضے کے بوجھ میں اضافہ نہیں ہونے دیا جائے گا۔
مذاکرات میں بتایا گیا کہ آئندہ سال 2026 سے ٹیرف ریبیسنگ ہر سال یکم جنوری کو کی جائے گی، اس کے علاوہ وفد کو ترسیلات زر کے لیے مراعاتی اسکیم پر بریفنگ دیتے ہوئے کہا گیا کہ رواں مالی سال اس اسکیم پر 100 ارب روپے تک خرچ کیے جائیں گے۔
ذرائع کے مطابق سیلاب متاثرین کی مالی امداد اور نقصانات کے تخمینے بھی آئی ایم ایف وفد کے سامنے رکھے گئے، جبکہ ٹیکس کلیکشن سے متعلق ڈیٹا کا تبادلہ اور اس پر تفصیلی گفتگو بھی اجلاس کا حصہ رہی۔
Shoaib Nizami reports Finance, Fedeal Board of Revenue, Planning , Public Accounts, Banking, Capital Market, SECP, IMF, World Bank, Asian Development Bank, FATF updates for ARY News


