آئی ایم ایف نے فِسکل مانیٹر رپورٹ 2025 جاری کردی، پاکستان کے ذمہ قرضوں میں بتدریج کمی کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق عالمی مالیاتی فنڈ نے فِسکل مانیٹر رپورٹ 2025 میں مالی خسارہ ریونیو، اخراجات اور قرضوں سمیت معاشی اشاریوں کا ڈیٹا شامل ہے، آئی ایم ایف رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حکومت پاکستان کے ذمہ قرضوں میں بتدریج کمی کا امکان ہے۔
رپورٹ میں رواں سال قرض بلحاظ جی ڈی پی شرح 71.6 سے 71.3 فیصد پر آنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے جبکہ آئندہ 5 سالوں میں قرضوں کی شرح مزید کم ہو کر 60.2 فیصد پر آنے کا امکان ہے۔
آئی ایم ایف نے بتایا کہ رواں مالی سال پاکستان کے مالی خسارے میں اضافے کا امکان ہے، مالی خسارہ 3.9 فیصد ہدف کے مقابلے میں 4.1 فیصد تک جاسکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی معاشی شرح نمو اس سال کتنی رہے گی؟ آئی ایم ایف کا بڑا بیان آگیا
رپورٹ میں بتایا گیا کہ آئندہ 5 سال خسارہ بتدریج کم ہو کر 2.8 فیصد پر آنے کی توقع ہے، رواں سال پرائمری بیلنس 2.4 فیصد کے بجائے 2.5 فیصد حاصل ہونے کا امکان ہے، آئندہ مالی سال پرائمری بیلنس 2 فیصد شرح تک محدود رہ سکتا ہے۔
آئی ایم ایف رپورٹ میں کہا گیا کہ حکومتی اخراجات رواں مالی سال جی ڈی پی کا 20.4 فیصد رہنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے، اگلے سال اخراجات کی شرح مزید کم ہو کر 19.6 فیصد پرآسکتی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ پاکستان کے مجموعی ریونیو کی شرح اس سال بڑھ کر 16.2 فیصد ہونے کی توقع ہے، گزشتہ مالی سال جی ڈی پی کے لحاظ سے ریونیو کی شرح 15.7 فیصد تھی۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


