The news is by your side.

Advertisement

آئی ایم ایف معاہدہ: ’’غریب پر بوجھ نہیں ڈالا جائے گا‘‘

اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے توانائی عمر ایوب نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف سے مالیاتی معاہدہ طے ہونے کے بعد 75 فیصد صارفین پر بوجھ نہیں ڈالا جائے گا۔

تفصیلات کے مطابق مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ کی جانب سے عالمی مالیاتی فنڈ سے پروگرام کی تصدیق ہونے کے بعد وفاقی وزراء نے بھی اہم اعلان کردیا۔

وفاقی وزیر برائے توانائی (پاؤور ڈویژن) عمر ایوب کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف پروگرام ایک اہم قدم تھا، 75فیصد صارفین پر بوجھ نہیں ڈالیں گے جبکہ فارن ایکسچینج فرنٹ پر پاکستان کو2.5ارب ڈالر کافوری فائدہ ہوگا۔ اُن کا کہنا تھا کہ 2020تک گردشی قرضوں کو ختم کردیا جائے گا۔

دوسری جانب وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و اصلاحات خسرو بختیار کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف پروگرام سے معاشی اصلاحات کا نیا دور شروع ہوگا، پاکستان کو آسان شرح سود پر ڈالر میں قرضے مل سکیں گے، آئی ایم ایف سے معاہدہ اپنی جگہ مگر غریب طبقے پر بوجھ نہیں پڑےگا۔

مزید پڑھیں: آئی ایم ایف سے معاہدہ طے، پاکستان کو 6 ارب ڈالر قرض ملے گا، مشیر خزانہ کی تصدیق

وزیر مملکت برائے ریونیو حماد اظہر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنے ٹویٹ میں بتایا کہ پاکستان اورآئی ایم ایف کےدرمیان معاہدہ طےپاگیا، پاکستان اور عالمی مالیاتی فنڈ اسٹاف لیول پر ریفامز پیکج کے معاہدے پر پہنچے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ معاہدہ 39ماہ کا ہے جس کےتحت پاکستان کو 6ارب ڈالرملیں گے۔

قبل ازیں مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے قوم کو خوش خبری سنائی تھی کہ آئی ایم ایف سے معاہدہ طے پاگیا جس کے تحت پاکستان کو آئندہ تین سالوں کے لیے 6 ارب ڈالر قرض ملے گا جبکہ عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک سے بھی تین ارب ڈالرز کا قرض ملنے کا امکان ہے۔

بعد ازاں آئی ایم ایف کی جانب سے بھی اعلامیہ جاری کیا گیا جس میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان کے ساتھ اسٹاف کی سطح پر معاہدہ طے پاگیا البتہ پروگرام کی حتمی منظوری بورڈ کی جانب سے دی جائے گی۔

دریں اثناء پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان نے حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان ہونے والے معاہدے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ آئی ایم ایف اپنی ہی ٹیم سےمذاکرات کرکےواپس چلی گئی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ معاہدے پرپارلیمان میں بریفنگ دی جائے اور بتایا جائے وزارت خزانہ کے سمیت دیگر حکام مذاکرات میں کیوں شامل نہیں ہوئے اور اس بات کو بھی سامنے لایا جائے کہ کن شرائط پر پروگرام طے پایا۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کے لیے مالیاتی پیکیج کی منظوری، آئی ایم ایف نے اعلامیہ جاری کردیا

انہوں نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ’’معاہدے سے لگتا ہے مہنگائی کی سونامی آنے  والی ہے، کہیں مہنگائی کی  یہ سونامی حکومت کو نہ لے ڈوبے، ابھی  سے بجلی کی مہنگی کرنے کا اعلان کردیاگیا جبکہ حکومت ترقیاتی،فلاحی منصوبوں کو بھی بندکرنے جا رہی ہے، عام آدمی مزید مہنگائی برداشت نہیں کرسکتا ، اس معاہدے کےبعد روپے کی قدر مزید کم ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس عوام دشمن معاہدے کو  کسی صورت تسلیم نہیں کریں گے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں