کراچی: قومی ایئر لائن نے مبینہ طور پر ملازمین کی تعداد پچاس فیصد سے کم کرنے کے پلان پر عمل درآمد شروع کردیا ہے۔
ذرائع کے مطابق ملازمت سے رضاکارانہ علیحدگی اسکیم کے بعد کارکردگی کی بنیاد پر مبینہ طور سے لازمی ریٹائرمنٹ اسکیم کا فیصلہ کیا گیا ہے، اسکیم کے تحت ملازمین کا نظم و ضبط اور ان کی کارکردگی سامنے رکھی جائے گی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ری اسٹرکچرنگ کے تحت پی آئی اے کو کور اور نان کور دو درجوں میں تقسیم کیا جائے گا، نان کور درجہ میں شعبہ انجینرنگ، مرمت و بحالی کا شعبہ اور کچن پر مشتمل ہوگا جبکہ کور درجہ میں شعبہ مارکیٹنگ، ایچ آر فنانس، فلائٹ سروسز اور پروکیورمنٹ شامل ہوگا۔
اس کے علاوہ ذرائع کا کہنا ہے کہ ری اسٹرکچرنگ پلان کے تحت ملازمین کی تعداد کم کرکے سات ہزار پانچ سو کی جائے گی، عملہ کی تعداد کم ہونے کے بعد دو ہزر اکیس سے پی آئی اے کے اخراجات میں کمی آجائے گی۔
دوسری جانب پی آئی اے کی جانب سے سابقہ دور میں مہنگی لیز پر لیے گئے اے ٹی آر طیاروں کے معاملے پر ایف آئی اے نے تحقیقات کا آغاز کرتے ہوئے لیز معاہدے کے ذمہ داروں کو نوٹس جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ڈرائی لیز پر لئے گئے 2 طیاروں کی ماہانہ لیز ادائیگی کا بالترتیب اپریل اور مئی جبکہ 3 کا آغاز جون سے ہوا، معاہدے کے تحت 3طیاروں کی ماپانا لیز 1 لاکھ 79 ہزار 5 سو فی طیارہ ادائیگی منظور کی گئی جب کہ 2 طیاروں کی 1 لاکھ 72 ہزار 5 سو فی طیارہ ادائیگی کا معاہدہ منظور کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: اے ٹی آر طیاروں کی مہنگی لیز، ایف آئی اے کی تحقیقات شروع
اپریل 2012 میں مینو فیکچرنگ کے حامل ان طیارون کی لیز میسرز نورڈیک ایوی ایشن کیپیٹل سے لی گئی۔طیاروں کے لئے مارکیٹ میں موجود ان طیاروں کی ڈرائی لیزکی قیمت کو نظر انداز کیا گیا، پی آئی اے معاہدے کے وقت شاہین ائر نے ائر بس 320 طیاروں کی 6 سالہ لیز کا معاہدہ 1 لاکھ 95 ہزار فی طیارہ کیا۔
محمد صلاح الدین اے آروائی نیوز سے وابستہ سینئر صحافی ہیں اور ایوی ایشن سے متعلقہ امور کی رپورٹنگ میں مہارت رکھتے ہیں


