The news is by your side.

Advertisement

بخشش و مغفرت کی رات ’شبِ برات‘ کی اہمیت و فضیلت

شب برات یا شب براءت اسلام کے آٹھویں مہینے شعبان کی 15ویں رات کو کہتے ہیں، مسلمان اس رات میں نوافل ادا کرتے، قبرستان کی زیارت کرتے اور ایک دوسرے سے معافی چاہتے ہیں۔ اس رات کو مغفرت کی رات اوررحمت کی رات بھی کہا جاتا ہے۔

احادیث مبارکہ میں ’’لیلۃ النصف من شعبان‘‘ یعنی شعبان کی 15 ویں رات کو شب برات قرار دیا گیا ہے۔ اس رات کو براۃ سے اس وجہ سے تعبیر کیا جاتا ہے کہ اس رات عبادت کرنے سے اللہ تعالیٰ انسان کو اپنی رحمت سے دوزخ کے عذاب سے چھٹکارا اور نجات عطا کر دیتا ہے۔

 


استغفار اور توبہ کی رات


یہ رات مسلمانوں کے لئے آہ و گریہ و زاری کی رات ہے، رب کریم سے تجدید عہد کی رات ہے، شیطانی خواہشات اور نفس کے خلاف جہاد کی رات ہے، یہ رات اللہ کے حضور اپنے گناہوں سے زیادہ سے زیادہ استغفار اور توبہ کی رات ہے۔ اسی رات نیک اعمال کرنے کا عہد اور برائیوں سے دور رہنے کا عہد دل پر موجود گناہوں سے زنگ کو ختم کرنے کا موجب بن سکتا ہے۔

حضرت ابو بکر صدیقؓ سے روایت ہے کہ حضورِ پاک ﷺ نے فرمایا اے مسلمانو! شعبان کی پندرھویں رات کو عباد ت کے لئے جاگتے رہو اور اس کامل یقین سے ذکر و فکر میں مشغول رہو کہ یہ ایک مبارک را ت ہے اور اس رات میں مغفرت چاہنے والوں کے جملہ گناہ بخش دئیے جاتے ہیں۔

ایک اور حدیث مبارکہ میں حضرت علیؓ سے روایت ہے کہ نبی پاک ﷺ فرماتے ہیں کہ’جب شعبان کی درمیانی رات آئے تو رات کو جاگتے ہوئے قرآنِ کریم کی تلاوت کی جائے اور نوافل میں مشغول ہوا جائے ، روزہ رکھا جائے کیونکہ اس رات اللہ اپنی صفات رحمن و رحیم اور رؤف کے ساتھ انسانیت کی جانب متوجہ ہوتا ہے اور خدا کا منادی پکار رہا ہوتا ہے کہ ہے کوئی معافی مانگنے والا کہ میں اسے معاف کر دوں، کوئی سوال کرنے والا کہ میں اس کا سوال پورا کر دوں، کوئی رزق مانگنے والا کہ میں اسے حلال وافر رزق عطا کر دوں، اور یہ صدائیں صبح تک جاری رہتی ہیں‘۔

حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا شعبان کی پندرھویں شب عبادت میں بسر کرو اور دن کو روزہ رکھو، اس شب ہر گناہ بخش دیا جاتا ہے بخشش طلب کرنے والوں کا، رزق طلب کرنے والوں کے رزق میں وسعت عطا کی جاتی ہے۔

حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے جب شعبان کی پندرہویں شب آتی ہے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اعلان ہوتا ہے، ہے کوئی مغفرت کا طالب کہ اس کے گناہ بخش دوں ، ہے کوئی مجھ سے مانگنے والا کہ اسے عطا کروں ۔ اس وقت اللہ تعالیٰ سے جو مانگا جائے وہ ملتا ہے۔ وہ سب کی دعا قبول فرماتا ہے سوائے بدکار عورت اور مشرک کے

کہا گیا ہے کہ اس کو شب برات اور شب صک اس لئے کہتے ہیں کہ بُندار یعنی وہ شخص کہ جس کے ہاتھ میں وہ پیمانہ ہوکہ جس سے ذمیوں سے پورا خراج لے کر ان کے لئے برات لکھ دیتا ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ اس رات کو اپنے بندوں کے لئے بخشش کا پروانہ لکھ دیتا ہے۔ اس کے اور لیلۃ القدر کے درمیان چالیس راتوں کا فاصلہ ہوتا ہے۔

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اﷲ عنہما سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ماہِ شعبان کی نصف شب (یعنی پندرہویں رات) کو اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کی طرف متوجہ ہوتا ہے، پس وہ اپنے بندوں کو معاف کر دیتا ہے سوائے دو لوگوں کے: سخت کینہ رکھنے والا اور قاتل۔

اُم المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہما ارشاد فرماتی ہیں کہ ایک رات میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے بستر پر نہ پایا تو میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تلاش میں نکلی تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جنت البقیع میں پایا کہ آسمان کی طرف حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے سر اٹھایا ہوا تھا مجھے دیکھ کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ تعالیٰ نصف شعبان کو آسمان دنیا پر جلوہ گر ہوتا ہے اور قبیلہ کلب کی بکریوں کے جس قدر بال ہیں اُن سے زیادہ لوگوں کو بخش دیتا ہے“(ترمذی شریف)۔


شبِ برات کی خصوصیات


شب برات بھی ان خاص ایام کے قبیل سے تعلق رکھنے والی ایک اہم رات ہے، جس میں احساسِ زیاں کو اجاگر کرنا مقصود ہے اس لئے کہ قرآن کریم کا الوہی پیغام ’لعلکم یتذکرون، لعلکم یتفکرون‘ کی صورت میں ہر وقت بلند ہورہا ہے۔

یہ بھی ایک قول ہے کہ یہ رات پانچ خصوصیتوں کی حامل ہوتی ہے۔

اس میں ہر کام کا فیصلہ ہوتا ہے۔

اس میں عبادت کرنے کی فضیلت ہے۔

اس میں رحمت کانزول ہوتا ہے۔

اس میں شفاعت کا اتمام ہوتا ہے۔

پانچویں خصوصیت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اس رات میں یہ عادت کریمہ ہے کہ اس میں آب زم زم میں ظاہراً زیادتی فرماتا ہے۔

اِس شب کی بے شمار خصوصیات میں یہ بھی ہے کہ ِاس شب مبارکہ خاصانِ خدا کو علوم الہٰیہ عطا کئے جاتے ہیں، زم زم کا پانی بڑھ جاتا ہے ،ہر اَمرونہی کا فیصلہ ہوتا ہے ، بندوں کی عمر ،رزق اورعام و حوادث،مصائب و آلام، خیر و شر ،رنج و غم،فتح و ہزیمت،،وصل و فصل،ذلت و رفعت،قحط سالی و فراغی،غرضیکہ کے تمام سال ہونے والے افعال اِس شب مبارکہ میں اُس محکمہ سے تعلق رکھنے والے ملائکہ کو تفویض ہوتے ہیں،جس پر آئندہ سال عمل ہوتا ہے۔

امام ابو حنیفہؓ فرماتے ہیں یہ رات انعاماتِ سبحانی، عنایاتِ ربانی، مسرت جادوانی اور تقسیم قسمت انسانیت کی رات ہے۔ اس رات گناہ گاروں کی مغفرت ہوتی ہے، مجرموں کی معافی ہوتی ہے، خطا کاروں کی بارات ہوتی ہے اور یہ شب ریاضت مراقبہ و احتساب اور تسبیح و تلاوت کی رات ہے

شب برات کا دوسرے دنوں اور راتوں سے موازنہ کیا جائے تو شب برات دوسرے شب و روز سے بالکل مختلف ہے۔ عیدالفطر اور عیدالاضحٰی اللہ تعالیٰ کی طرف سے احکامات کی بجاآوری کا صلہ ہیں۔ اس میں انسان کو رمضان المبارک کے روزوں کی ادائیگی کے عوض عیدالفطر کی خوشی عطا ہوتی ہے۔ عیدین کا تعلق ہمارے باہمی معاملات سے ہے۔ احکامات کی بجا آوری کا صلہ اور انعام ہے۔

شعبان کے روزے

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے بعد ماہِ شعبان میں روزں کا زیادہ اہتمام فرمایا کرتے تھے، اس سلسلے میں حضرت اسامہ بن زیدؓ نے آپ ﷺ سے عرض کیا کہ ’’میں نے آپﷺ کو رمضان کے علاوہ شعبان میں اتنے روزے رکھتے نہیں دیکھا، حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ’’شعبان رجب اور رمضان کے درمیان ہونے کی وجہ سے لوگ اس سے غفلت برتنے لگتے ہیں، حالانکہ یہ مہینہ ایسا ہے کہ لوگوں کے اعمال اللہ کے سامنے پیش کئے جاتے ہیں، اس لئے میں یہی پسند کرتا ہوں کہ روزے کے ساتھ میرے اعمال اللہ کے دربار میں پیش کئے جائیں‘‘۔

حضرت عائشہ صدیقہؓ نے بھی شعبان میں کثرت سے روزہ رکھنے کی وجہ دریافت کی، تو آپﷺ نے فرمایا کہ ’’شعبان وہ مہینہ ہے کہ اس میں ملک الموت کے لئے ان لوگوں کے نام لکھ دیئے جاتے ہیں، جن کی روح نکالی جانی ہوتی ہے، لہذا میری خواہش ہے کہ میرا نام مرنے والوں کے ساتھ روزے کی حالت میں آئے‘‘۔

شب برات دنیا و آخرت کے سنوارنے کے لئے ایک فکر کا نام ہے، یہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دوری کو ختم کرکے قربت کی طرف ایک الارم ہے۔ حب الہٰی اور محبت رسول صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف ایک دعوت ہے۔ جس پر عمل پیرا ہوکر انسان دنیا اور آخرت سنوار سکتا ہے۔

اسلامی دنوں میں سے چند دنوں اور راتوں کو بھی اس لئے فضیلت دی ہے کہ یہ دن اور راتیں دوسرے دن اور راتوں سے منفرد مقام رکھتے ہیں۔ یہ دن اور رات ہمیں جھنجھوڑتے ہیں اور ہمیں اللہ تعالیٰ کے خلیفہ اور نائب ہونے کا احساس دلاتے ہوئے اس منصب کے مطابق کردار ادا کرنے کی طرف راغب کرتے ہیں۔

شب برات ہمارے لئے ایک الٹی میٹم ہے کہ اس رات اللہ کی یاد میں اشکبار ہوں، یہ رات اللہ کے فیوضات کا بحرِ بیکراں ہے جس میں غوطہ زن ہوکر اپنے من کو سیراب کیا جاسکے لیکن آج کے دور میں ہم اس کے برعکس اس رات کو پٹاخوں اور آتش بازی جیسے کاموں کی نذر کردیتے ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں