The news is by your side.

Advertisement

اسٹیٹ بینک کا ایکسپورٹ ری فنانس اسکیم سے متعلق اہم اعلان

اسٹیٹ بینک نے برآمدات اور زرمبادلہ کی آمد کو بہتر بنانے کے لیے برآمدی ری فنانس اسکیم کو توسیع دیدی۔

اسٹیٹ بینک نے برآمدکنندگان کو مزید سہولت دینے اور برآمدی آمدنی کی بروقت آمد کی حوصلہ افزائی کے لیے برآمدی مالکاری اسکیم ( Export Finance scheme) روایتی اور شریعت سے ہم آہنگ دونوں کا دائرہ کار بڑھادیا ہے، جس سے برآمدکنندگان کو ایکسپورٹ بلز/ واجب الوصول کی ڈسکاؤنٹنگ کے تحت برآمدی آمدنی پر فنانسنگ حاصل کرنے کا موقع ملے گا۔

ایکسپورٹ بلز/ واجب الوصول کی ڈسکاؤنٹنگ لازمی طور پر ایک ایسا مالی لین دین ہے کہ جس میں برآمد کنندہ اپنی مستقبل کی برآمدی آمدنی سے دستبرداری اختیار کرکے برآمدی آمدنی کے حصول کی بقیہ مدت کے لیے فنانسنگ حاصل کرتا ہے۔

اس اقدام سے برآمدکنندگان کو اپنی جاری سرمائے کی ضروریات پوری کرنے میں مدد ملے گی اور ان کی برآمدی آمدنی کے بروقت حصول میں بھی سہولت میسر آئے گی جس سے بین البینک منڈی (interbank market) میں زرمبادلہ کے ذخائر بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔

اس اسکیم کے تحت برآمد کنندگان اپنے ایکسپورٹ بلز/ واجب الوصول کی ڈسکاؤنٹنگ(بعداز شپمنٹ اور قبل از شپمنٹ دونوں) کے ذریعے بینکوں سے فنانسنگ حاصل کرسکتے ہیں، اس کی شرح 2 فیصد سے 3 فیصد ہوگی جس کا انحصار ڈسکاؤنٹنگ کی مدت پر ہے۔ پہلے تین ماہ کے دوران یہ اسکیم ایک فیصد اور 2 فیصد کی پست تعارفی شرحوں پر دستیاب ہوگی۔

بینک ڈسکاؤنٹ کی مدت کے لحاظ سے ڈسکاؤنٹ شدہ رقم کے برابر ری فنانسنگ حاصل کرسکیں گے، جس کی سطح ایک فیصد سے 2 فیصد تک ہوگی۔اسٹیٹ بینک نے اس اسکیم کے تحت برآمدی آمدنی کے حصول کی مدت کو 180 ایاّم تک توسیع دے کر برآمد کنندگان کی جاری سرمائے کی ضروریات کے لیے موافق شرحوں کے ساتھ ساتھ خصوصی رعایت بھی فراہم کردی ہے، بشرطیکہ برآمدکنندہ اس ڈسکاؤنٹنگ سہولت سے استفادہ کرے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں