The news is by your side.

Advertisement

کراچی: دھماکے میں استعمال ہونیوالی موٹر سائیکل سے متعلق اہم حقائق سامنے آگئے

کراچی: شہر قائد کے علاقے اورنگی ٹاؤن میں رینجرز پر حملے میں استعمال ہونے والی موٹر سائیکل سے متعلق اہم حقائق سامنے آگئے۔

اے آر وائی نیوز کی رپورٹ کے مطابق کراچی کے علاقے اورنگی ٹاؤن میں رینجرز پر حملے میں استعمال ہونے والی موٹر سائیکل کی چوری کا مقدمہ پولیس نے تخریب کاری میں استعمال کے بعد درج کیا، 70 سالہ موٹر سائیکل مالک کو حراست میں لیا گیا تو پولیس کو مقدمے کا ہوش آیا، موٹر سائیکل مجاہد کالونی سے 14 دن پہلے چوری ہوئی تھی۔

واضح رہے کہ اورنگی ٹاؤن میں گزشتہ روز رینجرز موبائل پر حملہ کیا گیا تھا، دھماکے میں 2 رینجرز اہلکار شہید اور 8 افراد زخمی ہوئے تھے۔

ذرائع کے مطابق موٹر سائیکل چوری ہونے پر شہری تھانے کے چکر لگاتا رہا لیکن پولیس کی جانب سے مقدمہ درج نہیں کیا گیا تھا۔

مزید پڑھیں: کراچی: رینجرز پر حملے کی ایک اور سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آ گئی

موٹر سائیکل کے مالک رمضان کا کہنا تھا کہ 3 مارچ کی شام موٹر سائیکل گھر کے باہر کھڑی کی تھی، رات ساڑھے 11 بجے کے قریب دیکھا تو موٹر سائیکل موجود نہ تھی، رات 12 بجے ون فائیو پر اطلاع دی، 15 منٹ بعد تھانے طلب کیا گیا۔

متاثرہ شہری کا کہنا تھا کہ تھانے پہنچنے کے باوجود پولیس نے مقدمہ درج نہیں کیا، گزشتہ روز مقدمہ درج کرنے کے بعد مجھے رہا کیا گیا۔

یاد رہے کہ تفتیشی حکام کا کہنا تھا کہ دھماکے سے چند منٹ قبل 2 حملہ آوروں نے موٹر سائیکل لا کر کھڑی کی تھی، ایک حملہ آور دور چلا گیا، دوسرا رینجرز موبائل آنے تک لوگوں کو وہاں سے ہٹاتا رہا، خیال رہے کہ دھماکے کے مقام سے کچھ ہی فاصلے پر رینجرز اور پولیس کی مشترکہ پکٹ لگی ہوئی تھی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں