The news is by your side.

Advertisement

بالو شاہی سے متعلق اہم حقائق

میدے سے بنی خستہ مٹھائی جو اوسط قد کی پھلکی کے برابر ہوتی ہے، جسے بالو شاہی کے نام سے جانا تھا۔

سنسکرت زبان سے ماخوذ اسم ‘بالو’ اور فارسی زبان سے ماخوذ اسم صفت’شاہی’ سے مل کر یہ مرکب بنا ہے، اردو میں بطور اسم مستعمل ہے، 1830 میں نظیر اکبر آبادی’ کے کلیات میں مستعمل ملتا ہے۔

بالو شاہی سے متعلق اہم معلومات

جُنگ شاہی سندھ کا ایک ایسا علاقہ ہے جہاں کی بالو شاہی پورے ملک میں مشہور ہیں، اس کے علاوہ بالو شاہی آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر خان کے دستر خوان کی زینت بھی رہی ہے۔

بالو شاہی کیسے بنائیں؟

ایک چھلنی کا استعمال کرتے ہوئے دو کپ میدہ میں گھی، بینکنگ پاؤڈر اور ڈیڑھ چمچ نمک ڈال کر پانی کے ساتھ سب کو ملائیں۔یہاں تک کہ سب کچھ مل کر گوندھا ہوا آٹا بن جائے۔ گوندھے ہوئے آٹے کو ڈھک کر پندرہ منٹ کے لیے علیحدہ رکھ دیں، اس درمیان چینی کا شیرہ بنائیں۔

شیرہ بنانے کے لیے بڑے سرفیس والی کڑھائی کا استعمال کریں تاکہ بالو شاہی کو شیرہ جذب کرنے کے لیے زیادہ جگہ مل سکے، آدھے کپ پانی میں چینی ڈال کرچمچ سے ملائیں، شیرہ کو چمچ سے اس وقت تک چلاتے رہیں جب تک وہ ہلکا گاڑھا نہ ہوجائیں ، شیرے کو لذید بنانے کے لئے اس میں زعفران اور الائچی کا بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔بالو شاہی بنانے کا طریقہ ...اُردو پوائنٹ پکوانبالو شاہی رول بنانے کے لیےکسی ہموار سطح پر گو ندھے ہوئے آٹا کو بیلیں اور دس تہہ بنائیں، پھر اس کو چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں کاٹیں اور اسے متوسط سائز کا گیند بنائیں، اس کے بعد کڑھائی لیں اور اس میں تیل ڈالیں ۔

بالو شاہی کو فرائی کرنے کے لیے گھی یا تیل کا استعمال کیا جاتا ہے ، تیل کو گرم ہونے دیں،گرم ہوجانے کے بعد آنچ ہلکی کردیں، اس کے بعد اس میں بالو شاہی ڈالیں اور اس کو فرائی کریں،نہایت ہلکی آنچ پر نصف گھنٹے تک فرائی کریں، پھر اسے باہر نکال کر شیرہ میں ڈال دیں۔ اب آپ کا لذیذبا لو شاہی تیار ہے۔

نوٹ : فرائی کرتے وقت چمچ کا استعمال ہرگز مت کیجیئے گا ورنہ سبھی بالوشاہی بکھر جائیں گے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں