The news is by your side.

Advertisement

بوسٹر ڈوز سے متعلق اہم خبر، ماہرین کی رائے جانیے

سعودی ماہرین صحت نے کورونا ویکسین کی بوسٹر ڈوز کو فی الحال غیرضروری قرار دے دیا۔

عرب میڈیا کے مطابق نائب وزیرصحت ڈاکٹر عبداللہ عسیری کا کہنا ہے کہ جب ویکسین کی دوخوراکیں شدید، ‏بیماری، اسپتال میں داخلے اور اموات کے خطرات سے روکتی ہیں تو شہریوں کے لیے بوسٹرڈوز غیرضروری ہے۔

دارالحکومت ریاض کے اسپتال میں متعدی امراض کے ماہر ڈاکٹر احمد الحقوی کا کہنا ہے کہ ہر کسی کے لیے ‏بوسٹر ڈوز کی منظوری کا مطالبہ ضروری نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ 6 ماہ بعد اور ویکسین کی افادیت میں بتدریج کمی کے باوجود ‏ویکسین کی دو خوراکیں سازگار تھیں اور وبا سے بچانے کے لیے سازگار تھیں۔

امریکی طبی ماہرین نے کووڈ ویکسین کی بوسٹر ڈوز کے حوالے سے فیصلہ کرتے ہوئے تجویز دی ہے کہ تمام ‏شہریوں کو تیسری خوراک نہ دی جائے تاہم بوسٹر ڈوز کے حوالے سے چین کی بھی ایک تحقیق سامنے آئی ہے۔

چین میں کی جانے والی ایک تحقیق میں کہا گیا کہ سائنو فارم کی کووڈ 19 ویکسین کی دوسری خوراک کے ‏استعمال کے چند ماہ بعد وائرس کو ناکارہ بنانے والی اینٹی باڈیز کی سطح میں آنے والی کمی بوسٹر ڈوز سے دور ‏کی جاسکتی ہے۔

سن یاٹ سین یونیورسٹی کی تحقیق میں یہ بھی ثابت ہوئی کہ ویکسین کی تیسری خوراک سے کرونا وائرس کے ‏خلاف خلیات پر مبنی مدافعتی ردعمل بھی مضبوط ہوتا ہے۔

یہ نتائج اس وقت سامنے آئے ہیں جب چین میں بیماری کے زیادہ خطرے سے دو چار افراد کو بوسٹر ڈوز دینے ‏کا فیصلہ کیا جاچکا ہے۔

یہ فیصلہ وقت کے ساتھ ویکسین سے بننے والی اینٹی باڈیز کی سطح میں کمی کے خدشات پر کیا گیا۔

سائنو فارم ویکسین پاکستان سمیت متعدد ممالک میں کووڈ کی روک تھام کے لیے استعمال کی جارہی ہے اور ‏چین کی ویکسی نیشن مہم میں اسے مرکزی حیثیت حاصل ہے۔

ویکسی نیشن کروانے والے ہیلتھ ورکرز کے نمونوں کے تجزیے کے بعد تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ سائنو فارم ‏کی دوسری خوراک کے استعمال کے 5 ماہ بعد وائرس ناکارہ بنانے والی اینٹی باڈیز کی شرح میں 70 فیصد تک کمی ‏آئی۔

مگر ویکسین کی تیسری خوراک کے استعمال کے ایک ہفتے بعد اینٹی باڈیز کی شرح میں 7.2 گنا اضافہ ہوگیا۔

تحقیق میں یہ نہیں بتایا گیا کہ اینٹی باڈیز کی سطح میں تبدیلی سے ویکسین کی افادیت پر کیا اثرات مرتب ‏ہوتے ہیں یا کورونا کی نئی اقسام کے خلاف کتنا تحفظ ملتا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں