The news is by your side.

Advertisement

محسن کیساتھ نائن زیرو پر عمران فاروق قتل کی منصوبہ بندی کی، ملزمان کے سنسنی خیز انکشافات

اسلام آباد: عمران فاروق قتل کیس کے مرکزی ملزمان خالد شمیم اور محسن علی کے اقبالی بیانات کی مزید تفصیلات اے آروائی نیوز نے حاصل کرلی ہیں۔

عمران فاروق قتل کیس کے ملزمان خالد شمیم اور محسن علی کے مجسٹریٹ کے روبرو اقبالی بیانات میں سنسنی خیز انکشافات کئے۔ اپنے اقبالی بیان میں ملزم محسن علی کہا کہ لندن پہنچنے پر انہیں اکبر نامی شخص لینے آیا تھا، ملزم نے بتایا کہ لندن پہنچتے ہی اس نے ڈاکٹرعمران فاروق کی ریکی شروع کردی تھی، ملزم نے عارضی طورپرایک اسٹورمیں نوکری بھی کی تھی۔

محسن علی کا کہنا تھا کہ کاشف کو مرکزی قیادت سے عمران فاروق کو ٹھکانے لگانے کا حکم ملا تھا، واردات کے لئے اس نے ایک پاؤنڈ کا چھریوں کا سیٹ خریدا تھا۔

ملزم نے انکشاف کیا کہ ڈاکٹر عمران فاروق کو اینٹیں مارنے کے بعد سینے اور پیٹ میں چھری سے وار کیے، واردات کے بعد انہوں نے رین کوٹ اور چھریاں راستے میں ہی پھینک دی تھیں۔

محسن علی نے بتایا کہ اسے لندن سیکریٹریٹ میں ایڈجسٹ کرنے کی پیش کش بھی کی گئی تھی۔

اپنے اقبالی بیان میں ملزم خالد شمیم نے کہا کہ اسے پارٹی نے واٹر بورڈ میں نوکری دلائی، وہ گھر بیٹھے ہی تنخواہ لیتا تھا، خالد شمیم کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم قائد سے اس کی ایک بار فون پر پارٹی امور پر بات ہوئی تھی۔

ملزم نے نے بتایا کہ اس نے محسن علی سے نائن زیرو پر ملاقات میں عمران فاروق کے قتل کی منصوبہ بندی کی، خالد شمیم نے کہا کہ قتل کے لیے اسے پچیس ہزارپاؤنڈز بھجوائے گئے تھے، محسن اور کاشف کا لندن اکیڈمی منیجمنٹ سائنسز میں داخلہ کرایا گیا تھا۔

ملزم نے بتایا کہ وہ پانچ سال افغانستان میں گزار کر چمن بارڈر سے پاکستان واپس آئے، ملزم خالدشمیم کا اقبالی بیان چھ اور محسن علی کا سات صفحات پر مشتمل ہے۔

اس سے قبل سات جنوری کو ملزمان خالد شمیم اور محسن علی کو سخت سیکیورٹی میں مجسٹریٹ کیپٹن ریٹائرڈشعیب کی عدالت میں پیش کیا گیا تھا، جہاں‌ دونوں ملزمان نے مجسٹریٹ کے سامنے اپنا اقبالی بیان ریکارڈکرایا۔

سب سے پہلے خالد شمیم نے اپنا اقبالی بیان ریکارڈ کرایا، جو چار گھنٹے تک جاری رہا، ملزم محسن علی نے بھی اقبالی بیان ریکارڈکرایا جو دو گھنٹے تک جاری رہا، جس کے بعد اقبالی بیان کے بعد دونوں ملزمان کو جوڈیشل ریمانڈ پر اڈیالہ جیل بھجوا دیا گیا تھا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں