The news is by your side.

Advertisement

عمران فاروق قتل کیس: دہشت گردی کی دفعات ختم کرنے کا فیصلہ محفوظ

اسلام آباد: انسداد دہشت گردی کی عدالت میں ایم کیو ایم کے مقتول رہنماء عمران فاروق قتل کیس کی سماعت میں مقدمے سے دہشت گردی کی دفعات ختم کرنے سے متعلق درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کرلیا گیا جبکہ ایف آئی اے نے لندن میں مقیم محمد انور اور افتخار حسین کے وارنٹ گرفتاری حاصل کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں عمران فاروق قتل کیس کی سماعت کے دوران گرفتار ملزمان محسن علی، خالد شمیم اور معظم علی کے وکلا نے مقدمے میں سے دہشت گردی کی دفعات ختم کرنے کے حوالے سے دلائل مکمل کیے۔

ملزمان کے وکلا نے دلائل میں کہا کہ عمران فاروق کا قتل لندن میں ہوا جبکہ اس مقدمے کی پاکستان میں اس مقدمے کی ایف آئی آر تک درج نہیں کی گئی تاہم 5 سال بعد سیاسی معاملات کے باعث مقدمے کا اندراج کیا گیا۔

پڑھیں: ’’ عمران فاروق کے قاتلوں‌ کو سزا دینا برطانیہ کی ذمہ داری ہے، نثار ‘‘

ملزم معظم علی کے وکیل نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ جہاں عمران فاروق کو قتل کیا گیا وہاں کوئی دہشت گردی کی واردات نہیں کی گئی تاہم بے نظیر کا قتل جو دہشت گردی تھا اُس کے بعد پورے ملک میں خوف و ہراس پھیلا اور درجنوں انسانی جانیں بھی ضائع ہوئیں۔

ملزمان کے وکلاء کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے مقدمے سے دہشت گردی کی دفعات ختم کرنے سے متعلق درخواست پر فیصلہ محفوظ کرتے ہوئے سماعت 23 فروری تک معطل کردی اور ملزمان کو مزید جوڈیشل ریمانڈ پر روانہ کردیا۔

مزید پڑھیں: ’’ عمران فاروق قتل کیس، محمد انور کے وارنٹ گرفتاری جاری ‘‘

عمران فاروق قتل کیس میں نامزد لندن میں مقیم ایم کیو ایم رہنماؤں کی گرفتاری کے حوالے سے ایف آئی اے نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ملزمان کو گرفتار کرنے کے لیے اُن کے گھروں پر چھاپے مارے گئے تاہم دونوں کی گرفتاری عمل میں نہیں آسکی۔

جج کے استفسار پر ایف آئی اے حکام نے کہا کہ وہ ایک دو روز میں وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کے لیے عدالت میں درخواست جمع کروائیں گے اور عدالت سے دائمی وارنٹ جاری کرنے کی استدعا کریں گے۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں