عمران اسماعیل کو آنے سے منع نہیں کیا، خود ہی ناراض ہوکر گئے، ترجمان مزار قائد -
The news is by your side.

Advertisement

عمران اسماعیل کو آنے سے منع نہیں کیا، خود ہی ناراض ہوکر گئے، ترجمان مزار قائد

کراچی : مزار قائد کے ترجمان نے کہا ہے کہ نامزد گورنر سندھ عمران اسماعیل کو مزار قائد پر حاضری دینے سے منع نہیں کیا گیا، وہ خود ہی ناراض ہوکر گئے، ان کے پہنچنے پرسابق وزیراعلیٰ کی گاڑیاں باہر نکل رہی تھیں۔

تفصیلات کے مطابق سندھ کے نامزد گورنر عمران اسماعیل، حلیم عادل شیخ، فروس شمیم نقوی، خرم شیر زمان اور دیگر رہنماؤں کے ہمراہ مزار قائد پر فاتحہ خوانی کے لیے پہنچے تو مزار کے مرکزی دروازے بند تھے، جس کے باعث انہیں مین گیٹ کے باہر سے ہی فاتحہ پڑھ کر واپس جانا پڑا۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں عمران اسماعیل کا کہنا تھا کہ ہمیں مزار قائد کے اندر جانے اور فاتحہ کرنے کی اجازت نہیں دی گئی جب کہ سندھ کے نامزد وزیراعلیٰ اور پیپلزپارٹی کے دیگر رہنماؤں کو کمشنر کراچی فضل الرحمان کے ہمراہ مکمل پروٹوکول کے ساتھ مزار قائد میں جانے کی اجازت دی گئی۔

اس حوالے سے ترجمان مزار قائد کا وضاحت دیتے ہوئے کہنا ہے کہ ہماری جانب سے عمران اسماعیل کو مزار قائد پر حاضری دینے سے منع نہیں کیا گیا، ان کے پہنچنے پر سابق وزیراعلیٰ کی گاڑیاں باہر نکل رہی تھیں۔

ترجمان کے مطابق مزارقائد پر دس شخصیات کے چادر چڑھانے کےاجازت نامے موصول ہوئے تھے، پہلی حاضری اور چادر چڑھانے کی سرگرمی صبح 10بجے منعقد ہوئی جبکہ مزارقائد پرآخری حاضری دن 12بج کر15منٹ پر ہوئی، کوئی بھی سیاسی جماعت بینر یا جھنڈے کے بغیرمزارپرحاضری دے سکتے ہیں۔

ترجمان مزار قائد کا مزید کہنا ہے کہ عمران اسماعیل جب مزار پر پہنچے تو سابق وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ کی گاڑیاں باہرنکل رہی تھیں، عمران اسماعیل سے دو منٹ انتظار کرنے کا کہا گیا تو وہ برا مان گئے اور اجازت ملنے کے بعد عمران اسماعیل نے آنے سے ہی منع کردیا۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ انتظامیہ کو عمران اسماعیل کی جانب سے مزار قائد پر حاضری کے لیے کوئی درخواست موصول نہیں ہوئی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں