The news is by your side.

Advertisement

نوجوان پاکستان کا مستقبل ہیں، بڑے خواب دیکھیں، عمران خان

کراچی : تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان کا مستقبل نوجوان ہیں، اگر آپ کو بڑا آدمی بننا ہے تو بڑے خواب دیکھنے ہوں گے، میں نے کپتان بننے اور ورلڈ کپ جیتنے کا سوچا تو یہ کام کر کے بھی دکھایا۔

جامعہ کراچی میں منعقدہ انصاف اسٹوڈنٹس فیڈریشن (آئی ایس ایف) کے پروگرام میں طلباء سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ دنیا میں بڑے کام کرنے والے شخص کی دو خصوصیات ہوتی ہیں، پہلی یہ کہ وہ بڑا انسان بنتا ہے اور دوسرا وہ بڑے خواب دیکھتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دنیا کی تاریخ نے کسی بھی امیر آدمی کو یاد نہیں رکھا البتہ انسانیت کے لیے کام اور جدوجہد کرنے والے آج بھی تابندہ ہیں، نیلسن منڈیلا نے 27 سال جیل میں گزارنے کو ترجیح دی مگر اپنے نظریے کا سودا نہیں کیا، اسی طرح قائد اعظم نے بھی اپنی آسائشوں کو بالائے طاق رکھ کر علیحدہ وطن کی جہد جہد کی۔

عمران خان نے کہا کہ قائد اعظم نے بڑی شخصیت کے حامل تھے اس لیے انہوں نے اپنے لوگوں کے حقوق کی جدوجہد کی اور انہی کے لیے اپنی سیاست کو وقف کیا جس کا نتیجہ پاکستان کی صورت میں سامنے آیا اور آج انہیں ہم یاد بھی رکھتے ہیں۔

تحریک انصاف کے سربراہ نے کہا کہ چھوٹے خواب دیکھنے والا انسان صرف اپنا ہی مفاد سوچتا ہے، طلبہ میں سے وہ لوگ ترقی کریں گے جو بڑی سوچ کے حامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مجھ سے زیادہ اچھے کھلاڑی موجود تھے مگر میں نے اپنے اہداف مقرر کیے ہوئے تھے، ٹیسٹ کرکٹ کے بعد کپتان بننے اور پھر ملک کو ورلڈ کپ دینا کا خواب بھی پورا کر کے دکھایا کیونکہ میں نے شکست تسلیم نہیں کی اور مسلسل لڑ کر دکھایا، مایوسی سے جب سامنا ہوا تو اُسے راستے سے ہٹا دیا۔


مزید پڑھیں : پاناما سے فارغ ہوگئے اب کراچی سمیت سندھ بھر پر توجہ دیں گے،عمران خان


ان کا کہنا تھا کہ آج ہماری معیشت تباہ ہوچکی ہے ہم کشکول لے کر دنیا میں بھیک مانگتے پھر رہے ہیں اور سوچتے ہیں کہ لوگ ہماری عزت کریں، جو قومیں بھیک مانگیں اُن کی کوئی عزت نہیں ہوتی۔

پی ٹی آئی چیئرمین نے کہا کہ بجٹ کو متوازن کرنے کے لیے اداروں میں اصلاحات کی ضرورت ہے، ملک کی معاشی صورتحال اُس وقت بہتر ہوگی جب اقدامات کیے جائیں گے، ہمیں جاپان کی تاریخ سے سبق حاصل کرنا چاہیے کیونکہ وہ تباہ ہونے کے باوجود ترقی یافتہ ممالک کی فہرست میں شامل ہوگیا ہے۔

عمران خان نے کہا کہ جب تک طلبہ کو ملکی مسائل کے لیے درد اور اپنے حقوق کے لیے کھڑے نہیں ہوں گے ہماری صورتحال کبھی بہتر نہٰں ہوگی، ہمیں مسلکی یا زبان کی بنیاد پر تقسیم نہیں ہونا بلکہ ایک نظریے پر متحد ہو کر نئے پاکستان کی جدوجہد کرنی ہے کیونکہ اب وقت بہت قریب ہے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں