راولپنڈی (18 ستمبر 2025): بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان نے 9 مئی مقدمات میں انسداد دہشتگردی عدالت (اے ٹی سی) میں ویڈیو لنک کے بجائے پیش ہونے کیلیے درخواست دائر کر دی۔
گزشتہ روز جی ایچ کیو حملہ سمیت 9 مئی مقدمات کا جیل ٹرائل منسوخ کر کے انسداد دہشتگردی عدالت (اے ٹی سی) منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا تاہم آج عمران خان کی لیگل ٹیم نے وزارت داخلہ پنجاب کے اس فیصلے کو چیلنج کیا ہے۔
عمران خان کے وکیل فیصل ملک نے اے ٹی سی میں درخواست دائر کی جس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ بانی پی ٹی آئی کو ویڈیو لنک کے بجائے عدالت میں پیش کیا جائے، ملزم کی ذاتی حاضری آئینی اور قانونی حق ہے۔
عدالت نے ویڈیو لنک پر پیشی کے خلاف دائر درخواست سماعت کیلیے منظور کر لی اور فریقین سے کل دلائل طلب کر لیے۔
جی ایچ کیو حملہ سمیت 9 مئی کے 12 مقدمات کی سماعت اب اے ٹی سی میں ہی ہوگی، سماعت کے موقع پر بانی پی ٹی آئی عمران خان کی حاضری بذریعہ ویڈیو لنک کی جائے گی۔
9 مئی کے 12 مقدمات میں بانی پی ٹی آئی عمران خان، ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی سمیت پی ٹی آئی کے مرکزی رہنما نامزد ہیں۔
9 مئی کو عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں پرتشدد مظاہرے ہوئے تھے جن میں جی ایچ کیو، کور کمانڈر ہاؤس لاہور سمیت حساس عسکری و سرکاری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا تھا۔
ان واقعات کے خلاف مختلف مقدمات قائم کیے گئے۔
جی ایچ کیو حملہ کیس کا مقدمہ تھانہ آر اے بازار میں درج ہے جس میں عمران خان کے علاوہ شاہ محمود قریشی، علی امین گنڈاپور، راجا بشارت اور شیخ رشید سمیت 120 ملزمان نامزد ہیں۔
6 جون 2025 کو جی ایچ کیو حملہ کیس کے اہم ترین گواہ کا بیان قلمبند کیا گیا تھا۔ بیان کے دوران وکلا صفائی نے عدالت میں ہنگامہ کیا اور نعرے لگائے تھے۔
کیس کی اڈیالہ جیل میں سماعت ہوئی تھی، اس موقع پر شبلی فراز، زرتاج گل، امجد نیازی، عثمان ڈار، فواد چوہدری سمیت متعدد ملزمان پیش ہوئے تھے۔
محمد ریاض نے بیان میں کہا تھا کہ جے آئی ٹی میٹنگ میں پیمرا اور ایف آئی اے سے موصول شواہد اسکرین پر چلائے گئے، شواہد سے ثابت ہوا پی ٹی آئی افواج اور ریاستی اداروں کیخلاف نفرت پھیلانے میں ملوث ہے۔
گواہ کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی بطور جماعت ملک میں افراتفری اورانار کی پھیلانا چاہتی ہے، عمران خان اور شہریار آفریدی کی اشتعال انگیز تقاریر کی ڈی وی ڈیز میری موجودگی میں تحویل میں لی گئیں۔
سماعت کے آغاز اور محمد ریاض کے بیان کے دوران وکلا صفائی نے عدالت میں ہنگامہ کیا اور نعرے لگائے۔ ان کے ہنگامے پر اے ٹی سی جج نے اظہار برہمی کیا اور سخت آرڈر لکھوا دیا۔
عدالت نے کہا تھا کہ وکلا صفائی نے ہنگامہ آرائی کی اور جان بوجھ کر عدالتی کارروائی روکنے کی کوشش کی جبکہ وکلا صفائی سینئر وکلا سلمان اکرم راجہ کو عدالت بلانے پر اصرار کرتے رہے۔ وکلاء نے کہا تھا کہ سلمان اکرم راجہ کو اندر نہ بلایا گیا تو عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کر دیں گے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


