جمعہ, جنوری 23, 2026
اشتہار

بانی پی ٹی آئی کی جیل سے منتقلی کا معاملہ زیرِ غور ہے، بیرسٹر عقیل ملک

اشتہار

حیرت انگیز

اسلام آباد (13 دسمبر 2025): وزیر مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک کا کہنا ہے کہ عمران خان کی جیل سے منتقلی کا معاملہ ضرور زیرِ غور ہے لیکن حتمی طور پر ابھی کچھ فیصلہ نہیں ہوا۔

اے آر وائی نیوز کے پروگرام ’اعتراض ہے‘ میں بیرسٹر عقیل ملک نے کہا کہ امن و امان اور سکیورٹی کا مسئلہ پی ٹی آئی قیادت اور عمران خان کی بہنوں نے خود بنایا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: حکومت کا عمران خان کو کسی اور صوبے کی جیل منتقل کرنے پر غور

انہوں نے کہا کہ عمران خان کی ہمشیرہ نورین خانم نے بھارتی چینل پر کہا کہ اڈیالہ جیل کی دیواریں بڑی نہیں اور گیٹ توڑنا مشکل کام نہیں، ان کے بیان سے تحفظات ہیں جس سے حکومت الرٹ ہوئی ہے، قانون کہتا ہے کہ جیل سے آپ سیاسی گفتگو نہیں کر سکتے۔

فیض حمید کو سزا

وزیر مملکت برائے قانون و انصاف نے کہا کہ ایک ادارے نے خود احتسابی کا عمل شروع کر کے تاریخ رقم کی ہے، سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید سے متعلق فیصلہ آگیا ہے ان کو اپیل کا حق بھی موجود ہے، اگر ان کی اپیل مسترد ہوتی ہے تو ہائیکورٹ میں تمام معاملہ اتنا آسان نہیں ہے، لیگل پروسیجر کی کوئی بات ہو تو ہائیکورٹ میں معاملہ جوڈیشل ریویو کیلیے جا سکتا ہے۔

بیرسٹر عقیل ملک نے کہا کہ فیض حمید سے متعلق مزید معاملات کی انکوائری چل رہی ہے، وہ اور عمران خان کا گٹھ جوڑ کھل کر سامنے آ چکا ہے اس میں ابہام نہیں لیکن گٹھ جوڑ کی نوعیت اور اس کا تعلق 9 مئی سے کیا ہے یہ دیکھنا ضروری ہے۔

’سب چیزیں کھل کر سامنے آ چکی ہیں ہو سکتا ہے فیض حمید وعدہ معاف یا سلطانی گواہ بنیں۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ خود بتا دیں کہ کہاں کہاں اور کھل کر سہولت کاری کی ہے۔ یہ معاملہ بھی آئے گا کہ سیاسی سرگرمیوں میں ریٹائرمنٹ سے پہلے یا حاضر سروس فیض حمید کا کردار کیا تھا۔‘

سویلین کا ملٹری کورٹ میں ٹرائل

ان کا کہنا تھا کہ کوئی سویلین آرمی آفیشل کو ورغلائے تو اس حوالے سے آرمی ایکٹ میں لکھا ہوا ہے، سپریم کورٹ آئینی بینچ بھی کہہ چکا ہے کہ سویلین کا ملٹری کورٹ میں ٹرائل غیر قانونی نہیں، سویلینز کے ٹرائل پہلے بھی ہوئے اب بھی ملٹری کورٹس میں چل رہے ہیں۔

’یہ بھی ہو سکتا ہے کیس کا نارمل عدالت سے ملٹری کورٹس میں بھی ہو سکتا ہے۔ فیض حمید سے متعلق دیگر معاملات زیر تفتیش ہیں ابھی کچھ کہنا قبل ازوقت ہے۔‘

28ویں آئینی ترمیم

بیرسٹر عقیل ملک نے کہا کہ 28ویں آئینی ترمیم پر بحث کا آغاز ضرور ہو چکا ہے لیکن اس پر فی الوقت اتفاق رائے ہونا بہت ضروری ہے، پیپلز پارٹی بڑی اتحادی جماعت ہے قومی اسمبلی اور سینیٹ میں ان کی واضح نمائندگی ہے۔

انہوں نے کہا کہ 28ویں آئینی ترمیم کب آئے گی فی الوقت اس پر کچھ نہیں کہا جا سکتا۔

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں