The news is by your side.

Advertisement

ایک اور قطری خط ” تلور” کے شکار کا نتیجہ لگتا ہے ‘ عمران خان

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف نے سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج ایک اور قطری خط آگیا ہے، لگتا ہے یہ تلور کے شکار کے اثرات ہیں، انہوں نے کہا کہ یہ خط ہمارے دلائل کے بعد ہی کیوں آتے ہیں.

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ میں ذاتی دشمنی کی وجہ سے یہ سب کچھ نہیں کررہا ہوں، ساری اپوزیشن حکومت سے جواب مانگ رہی ہے، انہوں کہا ہم نے تو 4 سوال اُٹھائے تھے جب ان کا جواب نہیں‌ملا تو ہم عدالت آنے کافیصلہ کیا.

چیئرمین پی ٹی آئی نے 1999 کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جب 12 اکتوبر کو نوازشریف کاتختہ الٹا گیا تو قوم کے ساتھ مل کرخوشیاں منائی تھیں کیونکہ نوازشریف اس دور میں امیرالمومنین بننا چاہتے تھے.

عمران خان نے سوالیہ انداز میں کہا کہ مشرف کی آمریت اورنوازشریف کی نام نہاد جمہوریت میں کیا فرق ہے، ہم کہتے ہیں نوازشریف نے پارلیمنٹ اورسپریم کورٹ میں جھوٹ بولا ہے اس پاداش میں مجھے پرکیس ہے‘ میں اشتہاری ہوں جبکہ جہانگیر ترین کے خلاف تحقیقات ہورہی ہے، شیخ رشید کو لال حویلی سے نکالنے کی کوششیں ہورہی ہیں.

چیئرمین تحریک انصاف نے کہا کہ اب ایک نئی صورتحال رونما ہوئی ہے ، آج ایک اور قطری خط آگیا ہے، لگتا ہے یہ تلور کے شکار کے اثرات ہیں، عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے عوام باشعور ہیں وہ قطری خط کی حقیقت جانتے ہیں‌۔   عمران خان نے کہا کہ ہمارا سوال صرف اتنا سا ہے کہ نوازشریف نے جب تقریریں کیں توقطری خط کاذکر کیوں نہیں کیا. انہوں نے کہا کہ ملک کا وزیراعظم دولت چھپانے کے لئے عوام سے جھوٹ بولتا ہے.

دوسری جانب تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی جہانگیرترین کا کہنا تھا کہ میرا تمام کاروبار صاف اورشفاف ہے، میں اپنے کاروبار پر ٹیکس دیتا ہوں، جہانگیرترین نے کہا کہ ایک سال میں جتنا ٹیکس دیتا ہوں، نوازشریف نے ساری زندگی میں نہیں دیاہوگا۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں