The news is by your side.

Advertisement

ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ طاقت ور شخص قانون کی گرفت میں آیا، عمران خان

اسلام آباد : چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے کہا ہے کہ ملک کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک طاقت ور قانون کی گرفت میں آیا ہے یہی تبدیلی ہے اور اسی سے نئے پاکستان کی بنیاد رکھی جائے گی۔

چیئرمین تحریکِ انصاف عمران خان اے آر وائی نیوز کے معروف اینکر پرسن ارشد شریف کو انٹرویو دے رہے تھے جو کہ آے آر وائی نیوز پر شام 7 بجے نشر کیا گیا یہ چیئرمین تحریک انصاف کا پاناما کیس کے فیصلے کے بعد کسی چینل کو دیا گیا پہلا انٹرویو تھا۔

اے آر وائی نیوز پر معروف اینکر پرسن ارشد شریف سے بات کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ ماضی کا نظام عدل ہمیشہ سے شریف خاندان کو بچاتا آیا ہے اور آگے بھی باریاں لینے کے لیے اب اپنے بچوں کو تیار کررہے تھے۔

چیئرمین تحریک انصاف نے کہا کہ میری 21 سالہ سیاسی تاریخ میں یہ فیصلہ ایک معجزے کی سی حیثیت رکھتا ہے جس پر مجھے بہت خوشی ہوئی ہے اور میں پوری قوم کو کرپٹ حکمرانوں سے نجات ملنے پر دلی مبارک باد پیش کرتا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ تمام پیسہ اور ساری جائیداد نواز شریف کی تھی لیکن اس نے یہ اپنی اولادوں کے نام رکھ رکھا تھا اور ملکی اداروں کا کنٹرول حاصل کر کے کالے دھن کو سفید کرنے میں کامیاب ہو جاتے تھے اور کسی میں ہمت نہیں تھی کہ ان گاڈ فادر کے خلاف آواز بھی اُٹھا سکے۔

انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کے ایک ایک کارکن کو مبارک باد جو سڑکوں پہ نکلے اور گاڈ فادر کو نہ صرف یہ کہ للکارا بلکہ منطقی انجام تک پہنچایا جس کے بعد انشاٗاللہ پاکستان کی سیاست میں کرپٹ لوگوں کے لیے کوئی جگہ باقی نہیں رہے گی۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ شریف فیملی ایک ساتھ کرپشن آپریٹ کرتی ہے جس کے خلاف ہماری جدوجہد اب رکے گی نہیں بلکہ اور آگے بڑھے گی اوراب حدیبیہ پیپرز کا کیس کھلے گا تو شہباز شریف بھی نہیں بچیں گے۔

انہوں نے ن لیگی رہنماؤں کی پریس کانفرنس پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اگر سپریم کورٹ کا مفصل فیصلہ اردو میں پڑھ لیتے تو شاید پریس کانفرنس کرنے کی ضرورت ہی نہیں رہتی لیکن اب مجھے گالی دینے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا یہ جو کر رہے ہیں اس سے آگے ان کے لیے ہی مشکلات بڑھیں گی۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ شریف خاندان سارے عہدے فیملی میں رکھنا چاہتے کیوں کہ انہیں کسی پر اعتماد ہی نہیں ہے تاہم اب بات بہت ااگے نکل چکی ہے پوری فیملی کے ریفرنس نیب جائیں گے اور شہباز شریف حدیبیہ پیپرز کی زد میں ضرور آئیں گے۔

عمران خان نے کہا کہ ایک چینل میڈیا کا ڈان ہے جس نے نواز شریف کی کرپشن چھپانے کے لیے عدالتی سماعت کی درست کوریج نہیں بلکہ قوم کو گمراہ کرنے میں لگے رہے یہ وہی چینل ہے جس نے چھ گھنٹے تک حساس ادارے کے سربراہ کے خلاف منفی پر پیگنڈہ کیا کیوں کہ صحافت ان کے لیے ایک بزنس ہے۔

عمران خان نے کہا کہ ڈان لیکس بھی کوئی چھوٹا معاملہ نہیں بلکہ قومی سلامتی سے متعلق اہم کیس تھا اس کی رپورٹ کو عام ہونا چاہیئے تاکہ پتہ چلے کہ کس نے قومی سلامتی سے متعلق اہم امور کو لیک کیا اسی طرح مادل تاؤن ایک بہت بڑا سانحہ تھا جس دن کی قوم کے بزرگوں، بیٹوں اور بیٹیوں کو پنجاب پولیس اور گلو بٹوں کی بربریت کا نشانہ بنایا گیا اس سے متعلق بھی ہم جلد اہم قدم اُٹھائیں گے۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں