اسلام آباد (30 جنوری 2026): وزیر مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک کا کہنا ہے کہ عمران خان کی صحت بالکل ٹھیک ہیں دن میں تین بار چیک اپ ہوتا ہے۔
اے آر وائی نیوز کے پروگرام ’سوال یہ ہے‘ میں گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر عقیل ملک نے بتایا کہ عمران خان کے چیک اپ کیلیے 6 سینئر ڈاکٹرز میڈیکل ٹیم میں شامل ہیں، بانی پی ٹی آئی کو پہلے بھی جو تکلیف تھی اس کا علاج اڈیالہ کے اسپتال میں ہی کیا گیا، ڈاکٹرز کے مشورے پر ہی انہیں چھوٹے ٹریٹمنٹ کیلیے پمز لایا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: بانی پی ٹی آئی کی جیل سے منتقلی کا معاملہ زیرِ غور ہے، بیرسٹر عقیل ملک
بیرسٹر عقیل ملک نے کہا کہ عدالتی حکم پر 2024 میں ذاتی معالج کی بھی ملاقات کروائی جاتی رہی ہے، ابھی انہوں نے دوبارہ ذاتی معالج سے متعلق کوئی درخواست دی ہے، عدالت نے حکم دیا تو ذاتی معالج کو عمران خان تک رسائی دی جائے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ سلمان اکرم راجہ نے کل رات اڈیالہ جیل کے باہر ذاتی معالج کو بلایا تھا، پی ٹی آئی نے عدالت سے رجوع کر لیا تو فیصلہ آنے پر ملاقات کی اجازت مل جائے گی، مختلف اسپتالوں کے اسپیشلسٹ ڈاکٹرز ہر ہفتے اڈیالہ جیل میں عمران خان کا معائنہ کرتے ہیں، فیصل چوہدری بانی پی ٹی آئی کی وکلا ٹیم کا حصہ رہے ہیں انہیں معلوم ہے کہ اڈیالہ جیل میں علاج ہوتا ہے۔
پروگرام میں مذاکرات کے حوالے سے وزیر مملکت نے کہا کہ حکومت مذاکرات کے حوالے سے بہت سنجیدہ ہے مگر ہم صورتحال دیکھ رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ محمود اچکزئی اور راجہ ناصر عباس کو مینڈیٹ دیا گیا لیکن وہ بھی خاموش ہیں، 8 فروری کو دیکھ لیں گے یہ کون سے پہاڑ توڑیں گے تب تک مذاکرات کیلیے انتظار کر لیتے ہیں، حکومت نہیں چاہتی کہ سیاسی ماحول مزید خراب ہو۔
پی ٹی آئی کے 8 فروری کو احتجاج کے حوالے انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے پہلے بھی جتنے احتجاج کیے وہ بے سود تھے، کیمرے کی آنکھ نے سب دکھا دیا کتنے لوگ آئے کتنے نہیں آئے، ان کے احتجاج میں کتنے لوگ آئے یہ گننے کی حکومت کو کوئی ضرورت نہیں۔
بیرسٹر عقیل ملک کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے پاس اسٹریٹ پاور نہیں ہے اگر حکومت مذاکرات کا کہہ رہی تو ان کو کرنا ہوگا، ان کو خدشہ ہے کہ حکومت کے پاس مینڈیٹ نہیں لیکن حکومت تو یقین دلا رہی ہے کہ ہمارے پاس مینڈیٹ ہے آپ آ کر بیٹھیں۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


