The news is by your side.

Advertisement

ملک میں جمہوریت رہے گی یا بادشاہت،2نومبرکو فیصلہ ہوگا،عمران خان

فیصل آباد : تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کا کہناہے کہ ملک میں جمہوریت رہے گی یا بادشاہت 2نومبر کو فیصلہ ہوگا۔

تفصیلات کےمطابق پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے فیصل آباد بار میں وکلا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج میں تحریک انصاف کے سربراہ کے طور پر نہیں بلکہ ایک پاکستانی ہوتے ہوئے آپ سے بات کروں گا۔

تحریک انصاف کے سربراہ کا کہناتھا کہ آج مغرب میں کسی بھی شہری کی زندگی آسان ہے اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ وہاں طاقت نچلی سطح تک منتقل ہے۔

عمران خان کا کہناتھا کہ وکلا وہ کمیونٹی ہے جنہوں نے جمہوریت کےلیے قربانی دی اور جمہوریت کوآگے بڑھانے کے لیے اپنا کردار اداکیا۔

تحریک انصاف کے سربراہ کا کہناتھا کہ ملائیشیااور جنوبی کوریا نے پاکستان کا ماڈل اپنایا اور آج وہ کہاں سے کہاں پہنچ گئے اور پاکستان قرضوں میں ڈوبتا چلا جارہاہے۔

انہوں نے چین کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ آج سے 30سال قبل چین کا جی ڈی پی 300ارب ڈالرز تھا اور آج اس کا جی ڈی پی 10000 ہزار ڈالرز سے بھی ذیادہ ہے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ حکومت نے انسانوں پر پیسہ خرچ نہیں کیا اور ہمارے مقابلے میں آج بنگلہ دیش اور نیپال جیسا ملک بھی انسانوں کی ترقی پر خرچ کرنے کے حوالے سے آگے نکل گیا ہے۔

پی ٹی آئی کے چیئرمین کا کہناتھاکہ مسلم لیگ ن 6 مرتبہ حکومت میں آئی لیکن فیصل آباد میں ہائی کورٹ کا بینچ نہیں بناسکی۔

انہوں نے ڈیویڈ کمیرون کی مثال دی کی جب ان پر سوالات اٹھے تو انہوں نے خود کو عوام کےسامنےپیش کیا اور آئس لینڈ کے وزیراعظم نے جب خود کو عوام کے سامنے پیش نہیں کیا تو اسے استعفی دینا پڑا۔

مزید پڑھیں:بادشاہ کو قانون کے نیچے لانے کے لیے آج پہلا قدم ہے،عمران خان

یاد رہےکہ اس سے قبل آج صبح عمران خان کا سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہناتھا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ بادشاہ کو قانون کے نیچے لانے کے لیے اہم قدم ہے۔

واضح رہے کہ عمران خان کا کہناتھا کہ 2نومبر فیصلہ کن دن ہوگا اور اس دن فیصلہ ہوگا کہ ملک میں جمہوریت یا بادشاہت رہے گی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں