site
stats
پاکستان

عدالت میں جمع کروائی گئی ایک بھی دستاویز غلط ہوئی تو سیاست چھوڑ دوں گا: عمران خان

کوہاٹ: عمران خان کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ میں 60 دستاویزات جمع کروائیں۔ ایک بھی غلط ہوئی تو سیاست چھوڑ دوں گا۔

تفصیلات کے مطابق چیئرمین تحریک انصاف عمران خان آج پولیس لائن میں تقریب میں شرکت کرنے کے لیے کوہاٹ پہنچے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخواہ پولیس میں کسی قسم کی سیاسی مداخلت نہیں کی۔ خیبر پختونخواہ میں پولیس کو ہم نے غیر سیاسی کیا اور پولیس میں کسی قسم کی سیاسی مداخلت نہیں ہونے دی۔

انہوں نے کہا کہ آئی جی خیبر پختونخواہ پولیس کو بہترین اقدامات پر مبارکباد دیتا ہوں۔ خیبر پختونخواہ میں پولیس اقدامات سے جرائم 50 فیصد کم ہوئے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں عام آدمی کو فوری انصاف دینے کی ضرورت ہے۔ عام آدمی کو فوری انصاف نہیں ملتا تو انتہائی قدم اٹھاتا ہے۔ اگر حکومت ملی تو لوکل جرگہ سسٹم کو پورے پاکستان میں لائیں گے۔ لوکل جرگہ سسٹم کے ذریعے عام آدمی کو فوری انصاف ملے گا۔

عمران خان نے نواز شریف پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ نواز شریف ایبٹ آباد میں جلسہ کر کے پوچھتے ہیں کہاں ہے نیا خیبر پختونخواہ؟ ’نواز شریف صاحب آپ نے ایبٹ آباد میں بلٹ پروف شیشے کے بغیر جلسہ کیا، یہ ہے نیا خیبر پختونخواہ‘۔

انہوں نے کہا کہ اسفند یار ولی تو ملک میں نہیں تھے، آج خیبر پختونخواہ میں جلسے کرتے ہیں۔ ’تبدیلی آئی ہے یا نہیں عوام آئندہ انتخابات میں بتادیں گے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ڈی آئی خان واقعے میں علی امین گنڈا پور کے نام کو اچھالا گیا، واقعے میں ملوث 9 میں سے 8 ملزمان کو 24 گھنٹے میں گرفتار کیا۔ واقعے کے مدعی کو بھرپور سیکیورٹی فراہم کی گئی اور پولیس نے ڈی آئی خان واقعے کا چالان 3 دن میں عدالت میں پیش کیا۔

عمران خان نے کہا کہ نواز شریف اور عمران خان کے کیسز میں بہت فرق ہے۔ سپریم کورٹ میں 60 دستاویزات جمع کروائیں، جمع کی گئی دستاویزات میں ایک بھی غلط ہوئی تو سیاست چھوڑ دوں گا۔

انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ میں نواز شریف کو ووٹ دینے والے شرم سے ڈوب جائیں، جمہوریت کی تاریخ میں کسی نے اپنامذاق اس طرح نہیں اڑایا۔ ایک نااہل شخص کو پارٹی سربراہ نہ بنانے کا بل مسترد کیا گیا۔ ان لوگوں کی وفاداری پاکستان سے نہیں ہے ترقیاتی کاموں کے نام پر ارکان پارلیمنٹ کو رشوت دی گئی۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top