site
stats
اے آر وائی خصوصی

ارکان کے اثاثوں کی چھان بین ہو تو ایوان خالی ہوجائے گا، عمران خان

اسلام آباد : چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے کہا کہ جس طرح میرے اثاثوں کی چھان بین کی گئی ہے اگر اس طرح دیگر اراکین پارلیمنٹ کی جائے تو 95 فیصد ممبرز نااہل ہو جائیں.

ان خیالات کا اظہار انہوں نے اے آر وائی نیوز کے پروگرام آف دی ریکارڈ میں میزبان کاشف عباسی سے بات چیت کرتے ہوئے کیا، عمران خان کا کہنا تھا کہ ایک سال تک میری چھان بین باریکی سے ہوئی حالانکہ میرے پاس سوائے کرکٹ کے کیا آمدن ہو سکتی تھی؟

عمران خان نے سابق اہلیہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ شکر ہے جمائما نے ریکارڈ اپنے پاس سنبھال کر رکھے ہوئے تھے جس کے باعث میرے لیے چالیس سال کا ریکارڈ اور منی ٹریل پیش کرنا ممکن ہو سکا اور نااہلی کے مقدمے میں سر خرو ہوا، یہ غیبی مدد تھی.

جمائما سے متعلق پوچھے گئے سوال کے پر جواب پر عمران خان نے کہا کہ دریا کو ایک ہی بار عبورکیا جاتا ہے، جمائما کی میرے لیے بہت زبردست خدمات ہیں ان کی جتنی بھی تعریف کروں وہ کم ہے تاہم جمائما کی واپسی کی بات اب ماضی کی بات ہوگئی ہے.

انہوں نے مزید کہا کہ جمائما جب تک پاکستان میں رہیں انہیں شدید تنقید کا سامنا رہا، پہلے مسلمان ہونے پر تنقید کی زد میں آئی، پھر یہودی لابی کا الزام لگا کر کردار کشی کی گئی جس پرجمائما کو بہت تکلیف ہوئی اور جب جمائما نے اپنی ماں کو ٹائلز گفٹ کیے تو اسمگلنگ کا الزام لگایا گیا.

انہوں نے کہا کہ نوازشریف نے پیسہ چوری کرکے باہرمنتقل کیا، اثاثے چھپائے، جعل سازی کی، لوگوں کو بے وقوف بنایا اورعدالت سے غلط بیانی کی جس پر وہ سزا کے حقدار تھے چنانچہ ملنی چاہئے جب کہ میں باہر پیسا کمایا اور اسے اپنے ملک لایا چنانچہ میرا نواز شریف سے موازنہ ہو ہی نہیں سکتا.

چیئرمین تحریک انصاف نے کہا کہ نواز شریف کو اپنے کیے کی سزا ملی ہے لیکن وہ عدلیہ کے خلاف مہم چلا رہے ہیں اور ایسی زبان استعمال کی جا رہی ہے جو اور کہیں نہیں جاتی ہے، اپنے اداروں کی تضحیک کوئی محب الوطن شخص نہیں کرسکتا تھا.

انہوں نے سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری کا زکر کرتے ہوئے کہا کہ شکر ہے میرا مقدمہ افتخار چوہدری کے زمانے میں نہیں چلا ورنہ وہ مجھے فارغ کر دیتے لیکن اس کے باوجود میں اُن پر تنقید نہیں کرتا اور عدالت کے خلاف مہم جوئی کی طرف نہیں جاتا.

عمران خان نے کہا کہ نواز شریف کو شکرکرنا چاہیے کہ وہ پاکستان میں ہے اور برطانیہ میں کوئی تصورنہیں کرسکتا کہ وزیراعظم دبئی میں ملازم ہو اور عدالت کو تنقید کا نشانہ بنائے اور اس پر توہین عدالت کا مقدمہ نہیں بنے.

جہانگیر ترین کی نااہلی کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ عدالت نے ٹرسٹ ڈیڈ پر جہانگیرترین کے خلاف فیصلہ دیا جو کہ ایک ٹیکنیکل غلطی تھی، جہانگیر خان کرپشن یا منی لانڈرنگ کے مرتکب نہیں ہوئے ہیں اور نظر ثانی کی اپیل دائر کریں گے.

انہوں نے مزید کہا کہ جہانگیرترین مشکل وقت میں ساتھ کھڑے تھے اور مشکل وقت میں میرے ساتھ جو کھڑا رہا اس کی قدر کرتا ہوں، میرا خیال ہے کہ انہیں تاحیات نااہل قرار دینے کے بجائے ڈی سیٹ کر کے پھر سے الیکشن لڑنے دے دیا جاتا تو زیادہ مناسب ہوتا.

حدیبیہ کیس کے حوالے سے عمران خان نے کہا کہ حدیبیہ کیس فیصلے پرعدالت کے بجائے نیب کو ذمہ دار قرار دیتا ہوں کیوں کہ پاناما کیس میں حدیبیہ سے متعلق نئے ثبوت سامنے آئے ہیں چنانچہ تحریک انصاف حدیبیہ کیس کھلوانے کے لیے نیب سے رجوع کرے گی جس کے لیے شاہ محمود کی سربراہی میں کمیٹی لائحہ عمل طے کر رہی ہے.

انہوں نے کہا وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے مقدمات کا سامنے کرنے سے بچنے کے لیے اسپتال کے بستر پر تصویر کھینچوا کر کمال اداکاری کی ہے جس کے لیے آسکر ایوارڈ کے مستحق ہیں.

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top