The news is by your side.

Advertisement

این اے 120 میں‌ ایک ہفتہ اور مل جاتا تو جیت جاتے، عمران خان

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ این اے 120 میں ہم نے انتخابی مہم تاخیر سے شروع کی، ایک ہفتہ اور مل جاتا تو ن لیگ کا ووٹ بینک مزید کم کردیتے یا جیت جاتے، خوشی ہوئی نثار نے مریم نواز کے خلاف زبان کھولی، میں نااہل نہیں ہوسکتا میں اپنا حلال پیسہ باہر سے یہاں لایا ہوں۔

یہ باتیں انہوں ںے اے آر وائی نیوز کے پروگرام آف دی ریکارڈ میں میزبان کاشف عباسی کو انٹرویو دیتے ہوئے کیں۔

عمران خان نے کہا کہ این اے 120 سال 85ء سے ان کا گڑھ تھا، یہاں کے لیے مجھے کیوں نکالا کی مہم پوری ہوئی، سرکاری وسائل کا استعمال ہوا، وفاق اور صوبائی حکومت کے تمام فنڈز اس حلقے لگائے گئے، پورا زور لگایا جب بھی مزید 30 فیصد ووٹ کم ہوگئے۔

انہوں نے کہا کہ الیکشن شیڈول جاری ہونے کے بعد آپ متعلقہ حلقے میں کوئی تعمیراتی کام نہیں کراسکتے لیکن سڑکیں بنیں، وزرا نے دورے کیے، فنڈز خرچ کیے گئے لیکن پھر بھی ووٹ بینک کم ہوا تو یہ ن لیگ کے لیے بہت بڑا دھچکا ہے۔

کے پی کے حکومت پر کرپشن کے سوال پر انہوں نے کہا کہ یہ محض الزامات ہیں شواہد کوئی نہیں، انہوں نے کہا کہ حدیبیہ پیپرز ملز کا کیس اگر کھل جائے تو سارے بینک آکاؤنٹس کی تفصیلات اس میں سامنے آجائیں گی، ہم پر جو الزامات لگائے جارہے ہیں اس ضمن میں کوئی ثبوت تو دکھایا جائے۔

ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ ضیا اللہ آفریدی سے دو بار ملا تھا اور اسے کہا کہ تم پر کرپشن کے الزامات آرہے ہیں مجھے وضاحت دو، اس نے مجھے کچھ نہیں، ڈ ی جی احتساب جنرل حامد نے مجھے کہا کہ ضیا اللہ غیر قانونی مائننگ کرارہا ہے اور پیسے بنارہا ہے، میرے رہنماؤں میں سے اگر کوئی کرپشن کررہا ہے آپ مجھے ایک کاغذ بھی اس ضمن میں دے دیں میں کارروائی کروں گا۔

کاشف عباسی کے ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ کامیابی کے لیے مشاہدہ ضروری ہے، رات سونے سے قبل مشاہدہ کرلیا تھا کہ جیت بھی سکتے تھے یا ہارنے کا مارجن مزید کم کرسکتے تھے لیکن ہم نے کمپین شروع کرنے میں تاخیر کردی تھی ، ہم نے جب تک پیسہ اکٹھا کیا ایڈورٹائزنگ کا وقت نکل چکا تھا ہمارے ایم این ایز کو روک دیا گیا جب کہ دوسری جانب مریم نواز خود اور ان کے وزرا بھی انتخابی مہم چلا رہے تھے جو الیکشن کمیشن کو نظر نہیں آئی۔

آٹھ ستمبر کے جلسے میں کرسیاں خالی تھیں اس سوال پر انہوں نے کہا کہ چھوٹے شہر میں دو دن کے نوٹس پر جلسہ ہوجاتا ہے جیسا کہ خوشاب میں لوگوں کا ہجوم تھا لیکن اندازہ ہوا کہ بڑے شہر میں جلسہ کرنے کے لیے پبلسٹی ضروری ہے، اس جلسے میں ٹھیک طرح سے لوگوں کو بتایا ہی نہیں کہ جلسہ ہورہا ہے۔

انہوں نے پھر کہا کہ ہماری انتخابی مہم دیر سے شروع ہوئی کیوں کہ ہم نے فنڈریزنگ میں دیر کردی جب مہم چلنا شروع ہوئی تو الیکشن سر پر آگیا، ہمیں ایک ہفتے اور مل جاتا تو ن لیگ کا ووٹ بینک مزید کم کردیتے۔

انہوں نے کہا کہ مجھے خوشی ہوئی کہ چوہدری نثار نے مریم نواز کے خلاف زبان کھولی کیوں کہ مریم نواز کی کیا قابلیت ہے؟نثار سے کوئی رابطہ نہیں ان پر شدید غصہ ہے، انہوں نے اس رات ہم پر جو شیلنگ کرائی اس کی اب تک تکلیف ہے، ان سے 40 سال کا تعلق ہے لیکن اس شیلنگ پر بہت تکلیف ہے۔


انہوں نے کہا کہ ایک خاتون جس کا کوئی لینا دینا نہیں وہ شہزادی بن کر رہ رہی ہے، چوہدری نثار کی تعریف کرتا ہوں کہ کسی نے تو کوئی بات کہی۔

آرٹیکل 62 اے کے سوال پر انہوں نے کہا کہ یہ شق غلط کام کرنے پر لگتی ہے ملک کا پیسہ چوری کرنے پر لگتا ہے، میں نے حلال طریقے سے باہر سے پیسہ کمایا اور پاکستان لے آیا کیسے مجھے کوئی نااہل کرسکتا ہے؟ اگر یہ رقم کینیڈا لے جاتا تو وہاں کی شہریت مل جاتی اور اسے خوش آمدید کہتے لیکن میں پیسہ یہاں لایا۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں