The news is by your side.

Advertisement

اسمگلنگ کے ناسور نے ملکی معیشت کو بھاری نقصان پہنچایا، عمران خان

اسلام آباد : وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اسمگلنگ کے ناسور نے ملکی معیشت کو بھاری نقصان پہنچایا ہے، صنعتی عمل کے فروغ کیلئے اسمگلنگ پرمؤثر قابو پانا ضروری ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسمگلنگ روک تھام سے متعلق اعلیٰ سطح کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی، اسلام آباد میں ہونے والے وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت اعلیٰ سطح اجلاس میں آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ، ڈی جی آئی ایس آئی، سیکریٹری داخلہ، وزیر داخلہ، مشیرخزانہ، مشیرتجارت، معاون خصوصی اطلاعات اور دیگر اہم وزراء نے شرکت کی۔

اس کے علاوہ اجلاس میں سیکریٹری تجارت، چیئرمین ایف بی آر، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کےچیف سیکریٹریز سمیت سول وعسکری حکام بھی موجود تھے۔ اجلاس میں اسمگلنگ سے ملکی معیشت کو درپیش مسائل اور صنعت کو ہونے والے نقصانات پر بریفنگ دی گئی۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ اسمگلنگ کے ناسور نے ملکی معیشت کو بھاری نقصان پہنچایا ہے، صنعتی عمل کے فروغ کیلئے اسمگلنگ پر مؤثرطریقے سے قابو پانا بہت ضروری ہے، اس کے علاوہ ملک کو قرضوں کی دلدل سے نکالنے کیلئے زراعت اور دیگر شعبوں کو ترقی بھی ضروری ہے۔

وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ اسمگل شدہ اشیاء کی درآمد اورخرید و فرخت کی یکسر روک تھام کی جائے، ماضی میں روزمرہ استعمال کی اشیاء کی اسمگلنگ روک تھام سے پہلو تہی کی گئی، غیرقانونی طور پر زرمبادلہ اسمگلنگ کو بھی اعلیٰ شخصیات کی سر پرستی ملتی رہی، جس کی وجہ سے ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں مسلسل کمی واقع ہوئی۔

عمران خان نے کہا کہ موجودہ حکومت نے صنعت کی بحالی و ترقی کیلئے مفصل اقدامات کیے ہیں، اسمگلنگ کی روک تھام ان ہی اقدامات کا اہم حصہ ہے۔

علاوہ ازیں اجلاس میں پاک افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کو منظم کرنے کیلئے اٹھائے گئے اقدامات اور پاک ایران بارڈر کے ذریعے تیل و ڈیزل کی اسمگلنگ کی حوصلہ شکنی سے متعلق بریفنگ دی گئی اس کے علاوہ مغربی سرحدوں پر بسنے والےافراد کی تجارتی سرگرمیوں و دیگرمعاملات پر بھی بریفنگ دی گئی۔

اجلاس میں وزیر داخلہ کی سر براہی میں اعلیٰ سطح کی کمیٹی کے قیام کا فیصلہ کیا گیا، مذکورہ کمیٹی وزارت داخلہ، کامرس ڈویژن، ایف بی آر، فنانس ڈویژن اور صوبائی نمائندوں پر مشتمل ہوگی۔

کمیٹی تمام پہلوؤں کا جائزہ لے کر مؤثر روک تھام کیلئے سفارشات پیش کریگی، سرحدوں کی مؤثرنگرانی، پاک افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کےغلط استعمال کی روک تھام پرسفارشات دیگی، کمیٹی موجودہ قوانین میں ضروری ترامیم کا جائزہ لے کر ایک ماہ میں سفارشات دے گی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں