اسلام آباد : وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کا فیصلہ حکومت اور ہائبرڈ نظام مشاورت سے کریں گے۔
اے آر وائی نیوز کے پروگرام خبر میں خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 27 ستمبر کو جیسا پی ٹی آئی کا احتجاج ہوگا ویسا ہی جواب دیا جائے گا اگر تحریک انصاف پرامن احتجاج کرے گی تو کوئی ان کو کچھ نہیں کہا جائے گا، حکومتی رویے میں تبدیلی نہ آنے کی ذمہ دار پی ٹی آئی خود ہے۔
بانی پی ٹی آئی عمران خان سے متعلق ایک سوال کے جواب میں وزیر دفاع نے بتایا کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کا فیصلہ صرف حکومت نے نہیں بلکہ ہائبرڈ نظام نے مل کر مشاورت سے کرنا ہے ان کا مزید کہنا تھا کہ بانی سے ملاقات کا فیصلہ حکومت اور اتحادیوں کا اجتماعی ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی والے ایک دوسرے پر شدید الزامات عائد کر رہے ہیں، اس پارٹی اسٹرکچر ہی کرپشن پر بنا ہوا ہے، پارٹی کے اندر اتنے پھڈے ہیں کہ اراکین ایک دوسرے کے کپڑے پھاڑ رہے ہیں،
انہوں نے کہا کہ علی امین گنڈاپور سے 50 کروڑ روپے اور دیگر ذرائع سے حاصل شدہ رقوم پر شاندانہ گلزار کا بیان سنا، سلمان اکرم راجہ نے کہا تھا کہ میں وضاحت دینے کو تیار ہوں لیکن دی نہیں۔
بیورو کریسی کا احتساب
بیورو کریسی کے کردار سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ اصل حکمرانی تو بیورو کریسی نے کی ہے ان کا کوئی احتساب ہی نہیں ہوا، فوج میں احتساب ہوا اس کے علاوہ سیاستدانوں کا بہت مرتبہ احتساب ہوچکا ہے، یہ غلط تاثر ہے کہ بیوروکریسی صرف ہمارے دور حکومت میں مضبوط ہوتی ہے۔
ملکی معیشت میں بہتری کیسے آئے گی
وزیرع دفاع نے کہا کہ ملک میں معیشت سمیت بہت سے مسائل ہیں جس میں کچھ انتہائی سنجیدہ نوعیت کے بھی ہیں، یہ وزن حکومت اداروں اور اتحادیوں نے مل کر اٹھایا ہے کسی پر کم تو کسی پر زیادہ ہے، میں سمجھتا ہوں کہ ملکی حالات میں بہتری کی بہت گنجائش موجود ہے
نئے صوبوں پر وزیر دفاع کی رائے
خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس پر بحث جاری ہے، میری ذاتی رائے یہ ہے کہ بلدیاتی حکومتوں کو مضبوط کرنے سے بہت سے مسائل سے نجات مل سکتی ہے، انفرااسٹرکچر کی بحالی کیلیے پیسہ تحصیلوں اور اضلاع میں جانا چاہیے۔


