اتوار, مارچ 15, 2026
اشتہار

بانی پی ٹی آئی اور محمود اچکزئی کی ملاقات کب ہوگی؟ وزیر اعظم کے کوارڈینیٹر نے بتا دیا

اشتہار

حیرت انگیز

اسلام آباد (8 فروری 2026): وزیر اعظم کے کوارڈینیٹر برائے خیبر پختونخوا اختیار ولی خان نے عمران خان اور محمود اچکزئی کی ملاقات جلد ہونے کا اشارہ دے دیا۔

اے آر وائی نیوز کے پروگرام ’اعتراض ہے‘ میں اختیار ولی خان نے بتایا کہ عمران خان سے محمود اچکزئی کی ملاقات جلد ہو جائے گی، شاید ایک یا دو ہفتے میں بانی پی ٹی آئی سے اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی کی ملاقات ہو جائے۔

اختیار ولی خان نے مزید بتایا کہ وزیر اعظم شہباز شریف اور محمود اچکزئی کی ملاقات سے پہلے عمران خان کی ملاقات ہو جائے گی۔

پروگرام میں وزیر اعظم کے کوارڈینیٹر نے بتایا کہ معاملات درست ہو رہے تھے لیکن پی ٹی آئی کی نچلی قیادت نے کہا کہ اسٹریٹ موومنٹ کریں گے، ہم نے کہا تھا اسٹریٹ موومنٹ کا شوق پورا کر لو پھر روتے ہوئے آئیں گے، ہم نے کہا تھا کہ جب دوبارہ روتے ہوئے آؤ گے تو مذاکرات کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں: عمران خان کی صحت اتنی خراب نہیں جتنا پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے، محمود اچکزئی

انہوں نے بتایا کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے ٹی او آرز میں بتا دیا تھا کہ کوئی غیر آئینی مطالبہ نہیں لانا، مذاکرات بھی ہوئے تو نئے الیکشن کا مطالبہ قبول نہیں کیا جائے گا، یہ مطالبہ قبول نہیں ہوگا ان کی مرضی ہے مذاکرات کریں یا نہ کریں، پی ٹی آئی سے مذاکرات میں قانون سے بالا کوئی بات نہیں ہوگی۔

پی ٹی آئی کی 8 فروری کی ہڑتال کے بارے میں اختیار ولی خان نے کہا کہ سندھ اور پنجاب میں کوئی سرگرمی نظر نہیں آئی جبکہ اسلام آباد اور راولپنڈی میں کوئی پہیہ جام یا شٹر ڈاؤن نہیں ہوا، خیبر پختونخوا کے مختلف ڈویژن میں کاروبار کھلا تھا شٹر ڈاؤن نہیں ہوا۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے کے پی میں کھلی دکانوں پر حملے کروائے، مالاکنڈ میں زبردستی کاروبار بند کروانے پر لوگوں نے پی ٹی آئی جلوس پر حملہ کیا، کے پی میں دکانیں بند کروانے کیلیے حملے کیے گئے ویڈیوز موجود ہیں، صوبے کے عوام زبردستی کاروبار بند کروانے کی وجہ سے پی ٹی آئی پر بپھر گئے، عوام نے کہا تم ہوتے کون ہو ہمارے دکانیں بند کرانے والے؟

’پی ٹی آئی کی دوسرے درجے کی قیادت نے ضد پر ہڑتال کی کال دی۔ سہیل آفریدی اور کمپنی نے اپنی ضد پر ہڑتال کے فیصلے کو سینئر قیادت پر تھونپا۔ آج کے پی بالکل مختلف نظر آیا شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام کو مسترد کر دیا۔‘

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں