The news is by your side.

سیاسی استحکام کے بغیر معاشی ترقی ممکن نہیں، عمران خان

اسلام آباد : سابق وزیر اعظم اور تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ ملک میں جب تک سیاسی استحکام نہیں آئے گا معیشت بہتر نہیں ہوسکتی اور نہ ہی سرمایہ کاری آئے گی۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے ملکی معیشت پر ڈیجیٹل سیشن سے گفتگو کرتے ہوئے کیا، انہوں نے کہا کہ ملک کی 50فیصد ٹیکسٹائل انڈسٹری بند ہورہی ہے لیکن حکومت کو اس کی فکر ہی نہیں۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ اس وقت پاکستان کی معیشت کو30ارب ڈالرکی فوری ضرورت ہے جبکہ موجودہ حکومت کے پاس صرف7ارب ڈالرکا انتظام ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس حکومت پر کسی کو اعتماد ہی نہیں رہا کہ اور کتنے دن یہ رہے گی، حکومت5سال کے لیے منتخب ہوکر آئے تو لوگوں کو اس پراعتماد ہوتا ہے۔

حکمرانوں نے اپنے کیسز ختم کردیے

چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ ملک میں ریکارڈ مہنگائی ہے، آئی ایم ایف کے مطابق بجلی مزید مہنگی ہوگی، دوسری جانب حکمرانوں کے کیسزختم ہوتے جارہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ آج پاکستان تحریک انصاف کی معاشی ٹیم سے مشاورت ہوئی ہے ہم نے معاشی چیلنجز سے نمٹنے کی حکمت عملی بنانا شروع کردی ہے۔

عمران خان نے کہا کہ اب اگر حکومت ملی تو 2018 سے زیادہ معاشی چیلنجز ہوں گے، ہم نے بہت مشکل سے اپنی انڈسٹری اٹھائی تھی، کورونامیں سب سےبہترین پالیسی اورریکوری ہماری تھی۔

الیکشن میں تاخیر مزید تباہی کا سبب بنے گی

انہوں نے کہا کہ اس وقت جلدی الیکشن کرالیں تو معاشی چیلنج جلدی ریکور ہوگا اگر الیکشن میں مزید تاخیر ہوگی یہ حکومت اور بھی تباہی پھیلاتی رہے گی، حکومت کو جو بھی وقت مل رہا ہے دلدل میں پھنستے رہیں گے۔

سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ورلڈ بینک کی رپورٹ کے مطابق پاکستان سری لنکا جیسے حالات کی طرف جارہا ہے، بجلی کے بل دیکھ کر لوگوں کے ہوش اڑگئے،عوام میں لاوا پک رہا ہے۔

عمران خان نے کہا کہ ہمیں خوف ہے کہ ایسے حالات نہ ہوجائیں کہ ہم پھرعوام کو روک نہ سکیں، پاکستان کو اس وقت بڑے فیصلوں کی ضرورت ہے، سرکاری اداروں کے نقصانات کم کرنا پڑیں گے۔

اوورسیزپاکستانی ہمارابہت بڑا اثاثہ ہیں

انہوں نے کہا کہ اوورسیزپاکستانی ہمارابہت بڑا اثاثہ ہیں، ان کو مراعات دینا ہوں گی اور مزید سرمایہ کاری لانا ہوگی،اوورسیزپاکستانی سرمایہ کاری کرینگے تو معیشت مستحکم ہونے کے ساتھ ساتھ ترقی بھی کرے گی۔

چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ ہم سے پہلےکی حکومتوں نے مہنگی بجلی کے معاہدے کرلیے، ہمیں ان معاہدوں میں اگلےسال 1450ارب ادا کرنا پڑیں گے، تمام بجلی گھرامپورٹڈ فیول پربنا دیئے گئے ہیں۔

آرمی چیف کی تقرری مفرور شخص کیسے کرسکتا ہے

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں آرمی چیف کی تقرری اہم ترین فیصلہ ہے، کیا پاکستان کا آرمی چیف ایک کرپٹ آدمی تعینات کرے گا جوخود کرپشن کیسزمیں ملوث اور مفرور ہوکر لندن میں بیٹھا ہے۔،

ہماری قانونی ٹیم اس معاملے پرقانونی چارہ جوئی کیلئے مشاورت کررہی ہے، ہم بھی آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے میں تھے لیکن عوام کو ریلیف دیا، ہم اپنےلوگوں کے لیے آئی ایم ایف کے سامنے اسٹینڈ لیتے تھے۔

کرپشن ایک کینسر ہے

ہمارے دورمیں عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت103ڈالر تھی آج93ڈالر ہے، ہمارے دورمیں تیل کی قیمتیں150 پرتھیں آج200سے اوپر ہیں۔

جب ہم کہتے تھے کہ آئی ایم ایف معاہدے میں ہیں تو کہتے تھے تم غلامی کررہے ہو، آج بتائیں یہ خود کیا کررہے ہیں،انہوں نے5ماہ میں معیشت کابیڑا غرق کردیا، کرپشن ایک کینسر ہے جو کسی بھی ملک کو تباہ کردیتی ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں