imran لاڈلہ وہ ہے جسے ضیاء دور میں چوسنی دے کر پالا گیا، عمران خان
The news is by your side.

Advertisement

لاڈلہ وہ ہے جسے ضیاء دور میں چوسنی دے کر پالا گیا، عمران خان

لاہور : پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے کہا ہے کہ لاڈلہ وہ ہے جسے ضیاء دور میں چوسنی دے کر پالا گیا اوربی بی کیخلاف آئی جےآئی بنوائی گئی، جبکہ ڈاکٹر طاہرالقادری کا کہنا ہے کہ فوج کوکسی مداخلت کی ضرورت ہے نہ ہم مطالبہ کریں گے۔

ان خیالات کا اظہار دونوں رہنماؤں نے لاہور میں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

تفصیلات کے مطابق چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری سے ملاقات کی، اس موقع پر ملک کی سیاسی صورتحال اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ جب ماڈل ٹاﺅن کا سانحہ سب نے ٹی وی پر براہ راست دیکھا، انتہائی دلخراش مناظر تھے جس طرح 14 بے گناہ لوگوں کو خون میں نہلایا گیا۔

عمران خان نے کہا کہ یقین دہانی کراتے ہیں کہ ہم سانحہ ماڈل ٹاؤن کے متاثرین کے ساتھ ہیں، طاہرالقادری جو بھی فیصلہ کریں گے پی ٹی آئی طاہرالقادری کا بھرپور ساتھ دے گی، یہ سیاسی اتحاد نہیں بن رہا بلکہ ایک انسانی معاملہ ہے، اس لیے پی اے ٹی کا ساتھ دے رہے ہیں تاکہ آئندہ کوئی پولیس کو ذاتی مقاصد کیلئے استعمال نہ کرے۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب پولیس اب شریف فیملی کی پولیس بنی ہوئی ہے، شہبازشریف کا حکم نہ ہوتا تو پولیس کس طرح قتل عام کرتی؟

سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کے بیان پر رد عمل میں عمران خان کا کہنا تھا کہ نوازشریف کی مجھے کیوں نکالا کی فریاد آج پھرسنی ہے، ساری زندگی ایک ہی لاڈلہ رہا ہے جس کا نام نوازشریف ہے۔

لاڈلہ وہ ہے جسے ضیاء دور میں چوسنی دے کر پالا گیا اوربی بی کیخلاف آئی جےآئی بنوائی گئی،اسی لاڈلے نے فاروق لغاری کے ساتھ مل کر بی بی کی حکومت گرائی تھی۔

عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ یہ لوگ سیاست دان نہیں مافیا ہیں ان کا مائنڈ سیٹ ہی ایسے چلتا ہے، یہ مافیا نہ ہوتا تو زیادہ سے زیادہ ایک ماہ کے اندر انصاف مل جاتا، مافیا جو مرضی کرلے ہم ان کیخلاف لڑتے رہیں گے۔

سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ سارے ادارے مفلوج ہیں یہ سب کو کنٹرول کرتے ہیں، مافیا نے اداروں میں اپنے لوگوں کو لگایا اورچیزیں کنٹرول کرلیں، سپریم کورٹ نے انہیں سسلین مافیا کہا تھا۔

چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ خواجہ آصف نے نوازشریف کوکہا تھا کہ فکرنہ کریں عوام پاناما کو جلد ہی بھول جائیں گے، ان لوگوں نے اسی طرح سانحہ ماڈل ٹاؤن کو بھی پوری طرح دبانے کی کوشش کی لیکن اب رپورٹ منظر عام پر آچکی ہے جس میں ذمہ داروں کا تعین بھی ہوگیا ہے۔

عمران خان نے مزید کہا کہ شہبازشریف کےڈراموں کاوقت ختم ہوگیا، 30 سال سے شریف خاندان حکومت میں ہے انہوں نے کیا کیا ؟ شہبازشریف بتائیں کہ حسن شریف 600 کروڑ کے گھر میں کیسے رہتا ہے؟ صرف شریف خاندان کے بچے ارب پتی بنے اور کوئی کیوں نہیں؟ منی لانڈرراور کرپٹ عناصر سےمفاہمت نہیں مک مکا ہوتی ہے۔

پولیس نے قتل عام کیا اور ایک بھی معطل نہیں ہوا، طاہرالقادری

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر طاہرالقادری نے کہا کہ ماڈل ٹاؤن میں دن دہاڑے قتل عام ہوا اور ایک شخص بھی معطل نہیں ہوا، ہزارکے قریب پولیس اہلکار قتل عام کررہے تھے اورایک شخص بھی جیل نہیں گیا، 45تھانے اور 12 کمپنیوں کو وزیراعلیٰ پنجاب کی منظوری کے بغیر کیسے طلب کیا جاسکتا ہے؟

انہوں نے کہا کہ پاک فوج کو کسی مداخلت کی ضرورت ہے اور نہ ہی ہم اس کا مطالبہ کریں گے، ہم عوامی دباؤ سے مطمئن ہیں امید ہے دباؤ کا اثر دنیا دیکھے گی۔

طاہرالقادری نے کہا کہ ایک بھائی پاناما پرگیا اور انشااللہ دوسرے بھائی کو ماڈل ٹاؤن پرسزا ملے گی، پوری قوم کامطالبہ ہے کہ شریف برادران کو گھرجانا ہوگا، عمران خان کا شکرگزارہوں کہ انہوں نے ہم سے اظہار یکجہتی کیا۔

میرا نام ای سی ایل میں ڈال دیں گے تویہ بہت اچھی بات ہے، ای سی ایل میں نام ڈالنے سے باہر کی مصروفیات منسوخ ہوجائیں گی، خان صاحب کا اپنا کندھا مضبوط ہے انہیں میری ضرورت نہیں۔


مزید پڑھیں: میرے کالج دور کا حساب ہو رہا ہے، لاڈلے کو چھوڑ دیا گیا، نواز شریف


ڈاکٹر طاہرالقادری کا مزید کہنا تھا کہ تیس دسمبر کو آل پارٹیزکانفرنس ہورہی ہے، اے پی سی میں آئندہ کا لائحہ عمل مرتب دیا جائے گا اور اسی پرعمل ہوگا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں