The news is by your side.

مجھے کوئی خوف نہیں، جیل میں ڈالنا ہے تو ڈال دیں، عمران خان

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین و سابق وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ میری آواز کیوں بند کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، مجھے کوئی خوف نہیں اگر جیل میں ڈالنا ہے تو ڈال دیں۔

عمران خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ جب تک زندہ ہوں ملک کے لیے جدوجہد کروں گا، مجھے جیل سے کوئی ڈر نہیں میں نے تو موت بھی قریب سے دیکھی ہے، اللہ پر پورا اعتماد ہے لا الہ الاللہ ماننے والا انسان ہے، موت کا جب بھی وقت مقرر ہے مجھے اسی وقت آ جائے گی، ملک کو بچانا ہے تو اللہ کے حکم کے مطابق انصاف کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا۔

سابق وزیر اعظم نے کہا: ’کوئی سمجھتا ہے کہ میں ان چوروں کی غلامی مان جاؤں گا تو یہ ممکن نہیں۔ واضح کرتا ہوں آخری گیند اور آخری سانس تک ان چوروں کا مقابلہ کروں گا۔ جیل جیسی باتوں کی مجھے کوئی فکر نہیں کیوں کہ میں ایک آزاد انسان ہوں۔‘

فواد چوہدری کی گرفتاری پر ردعمل

عمران خان نے کہا کہ فواد چوہدری کو آج اس لیے گرفتار کیا گیا کیوں کہ اس نے چیف الیکشن کمشنر کو منشی کہہ دیا، اعظم سواتی نے سابق آرمی چیف سے متعلق رائے کا اظہار کیا تو اس کو بھی گرفتار کر لیا گیا تھا۔

’محسن نقوی کو نگراں وزیر اعلیٰ کس بنیاد پر لگایا گیا؟‘

نگراں وزیر اعلیٰ پنجاب محسن نقوی کی تقرری پر عمران خان نے کہا کہ محسن نقوی کو نگراں وزیر اعلیٰ کس بنیاد پر لگایا گیا؟ ہم نے نگراں وزیر اعلیٰ کے لیے وہ نام دیے جو نیوٹرل ہیں تاکہ شفاف انتخابات ہو سکیں۔

عمران خان نے کہا: ’کیا انہیں نہیں پتا تھا کہ رجیم چینج میں سب سے بڑا کردار محسن نقوی کا تھا۔ یہ ان لوگوں میں سے تھا جس نے ہماری حکومت گرانے کے لیے سب سے زیادہ بھاگ دوڑ کی۔ محسن نقوی کو تو آصف علی زرداری اپنا بیٹا کہتا ہے۔ کیا الیکشن کمیشن کو اس کے علاوہ کوئی دوسرا شخص نہیں ملا؟‘

’محسن نقوی نے آتے ساتھ ہی اپنے کارنامے دیکھا دیے۔ اُن افسران کو واپس لے آیا جنہوں نے ہم پر تشدد کیا تھا۔ کیا یہ شفاف انتخابات کی تیاری ہو رہی ہے؟ محسن نقوی شفاف الیکشن کرانے نہیں آیا۔ اس تقرری کے خلاف ہم عدالت جا رہے ہیں۔‘

’عدلیہ سے درخواست ہے ہماری جمہوریت کو بچائیں‘

خطاب میں عدلیہ کو مخاطب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ عدلیہ آج ملک  کے لیے کھڑی نہیں ہوئی تو یاد رکھیں جسٹس منیر کا تاریخ میں نام نہیں، وہ طاقتور کے ساتھ کھڑے ہوئے تو تاریخ نے بھی انہیں بھلا دیا۔

عمران خان نے کہا کہ عدلیہ سے درخواست ہے ہماری جمہوریت کو بچائیں، ہمارے پاس عدلیہ کے پاس جانے کے ساتھ دوسرا راستہ سڑکوں پر آنا ہے۔

’مجھ پر قاتلانہ حملے کا منصوبہ طاقتور لوگوں نے بنایا تھا‘

سابق وزیر اعظم نے کہا کہ مجھ پر قاتلانہ حملے کا منصوبہ طاقتور لوگوں نے بنایا تھا جس میں شہباز شریف اور رانا ثنا اللہ بھی ملوث تھے، ان دونوں نے بار بار جے آئی ٹی کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی۔

’ہمیشہ سمجھتا تھا ادارے ملک لوٹنے والوں کے ساتھ نہیں ہوں گے‘

عمران خان نے کہا کہ ایک چھوٹا سا طبقہ ہے جو ملک کا پیسہ چوری کر کے باہر لے جاتا ہے، ان لوگوں کی بیرون ملک پراپرٹی ہے جب مشکل پڑتی ہے جہاز پکڑ کر باہر چلے جاتے ہیں، ایسے لوگوں کو کوئی تکلیف نہیں کیونکہ ان کا پیسہ بیرون ملک باہر پڑا ہوا ہے، ان  کے خلاف 26 سال پہلے جدوجہد میں نکلا تھا اور جاری رکھوں گا۔

سابق وزیر اعظم نے کہا کہ ہمیشہ سمجھتا تھا کہ ادارے کبھی ان کے ساتھ نہیں ہوں گے جو ملک کو لوٹتے ہیں، ان لوگوں کی چوری کے خلاف ہماری انٹیلی جنس اور اسٹیبلشمنٹ نے کیا کچھ نکالا ہوا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں