The news is by your side.

Advertisement

کے پی اسپتالوں کا نوٹس لینے پر چیف جسٹس کو خوش آمدید کہتے ہیں، عمران خان

خیبر پختونخوا میں 70 فیصد لوگوں کے پاس ہیلتھ کارڈ موجود ہے، جس میں ساڑھے پانچ لاکھ روپے کا ہیلتھ کور ہے

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا کے اسپتالوں کا نوٹس لینے پر چیف جسٹس کو خوش آمدید کہتے ہیں۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ چیف جسٹس نے وہ کام کیا ہے جو حکومتی ریگولیٹرز کو کرنا چاہیے تھا، عوام کوصحت، تعلیم اور انصاف دینا حکومتی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ تعلیم کے بعد عوام کا سب سے بڑا مسئلہ صحت ہے، ہم پاکستان میں صحت کے نظام کو تبدیل کریں گے، کے پی کے سرکاری اسپتالوں کا سارا انفرااسٹرکچر پرانا تھا، ہم نے جو اصلاحات کیں وہ چالیس سال میں نہیں ہوئیں۔ پھر بھی ہمیں کچھ مسائل کا سامنا ہے جنھیں میں چیف جسٹس کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔

چیف جسٹس نے وہ کام کیا ہے جو حکومتی ریگولیٹرز کو کرنا چاہیے تھا

عمران خان چیئرمین پاکستان تحریک انصاف

انھوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں آج آٹھ ہزار ڈاکٹرز فرائض انجام دے رہے ہیں، ہم صحت کا بجٹ تیس سے بڑھا کر80 ارب تک لے گئے، برطانیہ اور امریکا سے تیس ڈاکٹر واپس آکر لیڈی ریڈنگ میں کام کر رہے ہیں، چیف جسٹس حیات آباد اسپتال دیکھیں کہ ہم نے وہاں کتنا کام کیا ہے۔

پی ٹی آئی چیئرمین نے کہا ہم چاہتے ہیں صوبے میں اٹھائے گئے اقدامات پورا ملک دیکھے، کے پی اسپتالوں کو شوکت خانم کی طرح ورلڈ کلاس بنانا چاہتے ہیں لیکن اسپتالوں میں اصلاحات لانے میں شدید مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔ لیڈی ریڈنگ اسپتال سے ڈاکٹر کو ہٹایا گیا تو اس نے عدالت سے اسٹے لے لیا، ایکشن لیتے ہیں تو ینگ ڈاکٹرز کا چیف عدالتوں میں چیلنج کر دیتا ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ چیف جسٹس ان مسائل کو دیکھے۔

مقدمے سے بریت پرخوش ہوں‘ عمران خان

انھوں نے کہا کہ دوسری طرف ڈاکٹر برکی ہیں جو امریکا سے اپنا پیسا خرچ کر کے پاکستان آتے ہیں اور بلامعاوضہ خدمات انجام دے رہے ہیں۔ جو اچھا کام کرے اسے بونس دو جو نا اہل ہے اسے نکالا جائے، شوکت خانم اسپتال کی کامیابی کی وجہ بھی یہی میرٹ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا میں 70 فیصد لوگوں کے پاس ہیلتھ کارڈ موجود ہے، جس میں ساڑھے پانچ لاکھ روپے کا ہیلتھ کور ہے۔ سڑکیں بنانے سے نہیں بلکہ انسانوں پرسرمایہ کاری سے ملک بنتے ہیں، پہلے دن سے کہہ رہے ہیں پیسا اشتہارات پر نہیں عوام پر خرچ ہونا چاہیے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں