راولپنڈی (14 فروری 2026): اڈیالہ جیل میں قید بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کی لندن میں موجود بیٹوں سے ٹیلی فون پر بات کروا دی گئی۔
جیل ذرائع نے اے آر وائی نیوز کو بتایا کہ عمران خان بیٹوں قاسم اور سلیمان سے ٹیلی فون پر تفصیلی بات کروائی گئی۔ بانی پی ٹی آئی کی ہمیشرہ علیمہ خان نے بھائی کی بیٹوں سے ٹیلیفونک گفتگو کی تصدیق کی۔
علیمہ خان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ بانی پی ٹی آئی کی ان کے بیٹوں سے 20 منٹ کی بات کروائی گئی، وہ اپنے بچوں کی آواز سن کر بہت خوش ہوئے۔
دو روز قبل سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی کا 16 فروری سے پہلے آنکھ کا معائنہ اور بچوں سے ٹیلی فون پر بات کروانے کا حکم دیا تھا۔
عمران خان کی جیل میں صحت اور سہولتوں سے متعلق رپورٹ پر سماعت چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کی تھی۔
فرینڈ آف کورٹ بیرسٹر سلمان صفدر کی جانب سے جمع کروائی گئی رپورٹ عدالت میں پیش کی گئی تھی جس میں بتایا گیا کہ ان کی 10 فروری کو عمران خان سے تین گھنٹے طویل ملاقات ہوئی جس کے بعد رپورٹ مرتب کی گئی۔
بیرسٹر سلمان صدر نے عدالت میں رپورٹ کی سفارشات بھی پڑھ کر سنائیں اور مؤقف اختیار کیا کہ بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق فوری مداخلت کی ضرورت ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ بانی پی ٹی آئی نے جیل میں حفاظتی اقدامات اور کھانے پینے کی سہولتوں پر اطمینان کا اظہار کیا۔ تاہم طبی معائنے سے متعلق سفارش کی گئی کہ یہ کسی فیملی ممبر کی موجودگی میں کرایا جائے جسے سپریم کورٹ نے مسترد کر دیا۔
عدالت نے ہدایت کی کہ عمران خان کی آنکھ کا چیک اپ 16 فروری سے پہلے کروایا جائے اور اس مقصد کیلیے ڈاکٹروں کی ٹیم تشکیل دی جائے۔
سپریم کورٹ نے یہ بھی حکم دیا کہ سابق وزیر اعظم کی اپنے بچوں سے فون پر بات 16 فروری سے پہلے کروائی جائے۔
سماعت کے دوران اٹارنی جنرل نے یقین دہانی کروائی تھی کہ حکومت 16 فروری سے قبل بانی پی ٹی آئی کا دوبارہ طبی معائنہ کروائے گی اور بچوں سے فون پر بات بھی یقینی بنائی جائے گی۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


