The news is by your side.

Advertisement

مسلمانوں کے ساتھ ہندو لڑکیوں کی زبردستی کی شادیاں روک دوں گا، عمران خان

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ اقتدار میں آ کر مسلمانوں کے ساتھ ہندو لڑکیوں کی زبردستی کی شادیوں کا سلسلہ روک دوں گا۔

ان خیالات کا اظہار انھوں نے اسلام آباد میں منعقدہ ایک کنونشن میں اقلیتی گروپ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا، انھوں نے کہا کہ وہ اقتدار میں آ کر اقلیتوں کے حقوق کی حفاظت کریں گے۔

پی ٹی آئی چیئرمین کا کہنا تھا کہ ان کی حکومت میں ہندو لڑکیوں کی مسلمانوں کے ساتھ زبردستی شادیاں روکنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں گے۔

عمران خان نے کہا کہ انھیں ہندو برادری سے شکایتیں ملی ہیں کہ سندھ میں مسلمان لڑکوں سے ان کی عورتوں کی زبردستی شادیاں کروائی جا رہی ہیں۔

کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے تحریک انصاف کے رہنما نے اقلیتوں کے حقوق سے متعلق پارٹی ایجنڈا بھی پیش کیا اور کہا ’یہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ معاشرے کے غریب طبقات کو بنیادی حقوق فراہم کرے۔‘

منیشا کی بلال سے شادی، محبت اورانسانیت کی جیت، دھرم ہارگیا


انھوں نے اپنے خطاب میں پیغمبر اسلام کا بھی حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حضرت محمدﷺ نے مدینے کی فلاحی ریاست میں اقلیتوں کو ان کے حقوق دیے تھے۔

عمران خان نے کہا کہ سندھ کے ضلع عمر کوٹ میں ہر ماہ زبردستی کی پچیس شادیاں کرائی جا رہی ہیں، اقلیتی برادریاں زیادہ تر پس ماندہ علاقوں میں رہائش پذیر ہیں، طاقت ور کے پنجے سے ان کی آزادی کا واحد راستہ ان کی ترقی ہی ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان میں زیادہ تر ہندو خاندان سندھ میں رہائش پذیر ہیں، جب سندھ کے دیہات میں پس ماندگی بھی عروج پر ہے، پیپلز پارٹی سمیت کسی بھی حکومت نے ان کی ترقی کے لیے کبھی کوئی اقدام نہیں اٹھایا۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں