The news is by your side.

Advertisement

کچھ بھی ہوجائے احتساب کا عمل نہیں رکے گا:عمران خان

وزیراعظم کا پنجاب حکومت کی سو روزہ کارکردگی تقریب سے خطاب

لاہور: وزیر اعظم عمران خان پنجاب حکومت کی سو روزہ کارکردگی تقریب سے خطاب کررہے ہیں ، تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ معاشرہ انصاف پر قائم رہتا ہے۔

تفصیلات کے مطابق تحریک انصاف کی پنجاب میں صوبائی حکومت نے آج اپنی سو روزہ کارکردگی کی رپورٹ پیش کی ، تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ انصاف نہیں ہوتا تو احساسِ محرومی جنم لیتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں کہا جاتا ہے کہ ہم پچھلی حکومت کی بات کرتے رہتے ہیں، لوگوں کوکہنےدیں،اپنی کارکردگی کاموازنہ پچھلی حکومت سےنہ کریں توکس سےکریں ۔ ماضی میں جنوبی پنجاب کابجٹ دیگرحصوں پرخرچ کیاگیا، جس کے سبب وہاں کی محرومیاں بڑھتی گئیں۔

وزیر اعظم نے کہا کہ ہمیں غلطیوں سےسیکھ کرآگےبڑھناہے۔ پنجاب کےبجٹ کی منصفانہ تقسیم ہوگی۔

ان کا کہنا تھا کہ پنجاب کا سارا بجٹ لاہور پر لگا دیا گیا جس کے سبب شہر تو اچھا ہوگیا لیکن پنجاب کے دوسرے علاقوں سے لوگ یہاں آنے لگے ، جس سے شہر کا حجم بڑھ گیا ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ دیگر علاقوں سے لوگوں کے آنے سے لاہور کے دیگر مسائل بڑھ گئے جن میں ماحولیاتی آلودگی سب سے بڑا مسئلہ ہے۔

عثمان بزدار کی حمایت


وزیر اعظم عمران خان نے صوبہ پنجاب کے وزیراعلیٰ عثمان بزدار کی بھرپور حمایت کی اور کہا کہ سو دن میں کتنے لوگوں نے کہا کہ یہ غلط شخص لگادیا ہے ۔ لیکن کوئی یہ شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ عثمان بزدار کرپٹ آدمی ہیں ، یا منی لانڈرنگ کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عثمان بزدار کا جینا مرنا پاکستان کے ساتھ ہے ، ان سے بہتر آدمی کوئی نہیں ہوسکتا۔

تجاوزات کے خلاف آپریشن


انہوں نے یہ بھی کہا کہ جن کا جینا مرنا ملک سے باہر ہے ، سارے اثاثے اور کاروبار بیرونِ ملک ہیں، عید باہر گزرتی ہے اور علاج بھی ملک سے باہر ہوتا ہے ، وہ بھلا کس طرح اس ملک کے وفادار ہوسکتے ہیں۔

انہوں نے تجاوزات کے خلاف آپریشن کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ یہ آپریشن عوام کی بہتری کے لیے کیا جارہا ہے ۔اسلام آباد میں      350 ارب کی زمین قبضہ گروپ سے چھڑوائی ہے، پنجاب میں اب تک 160ارب کی سرکاری زمین چھڑوائی،یہ عوام کی زمین ہے۔

ان کا کہنا تھا پہلے کئی دہائیاں گزر جاتی تھیں زمین کے کیسوں کا فیصلہ نہیں ہوپاتا تھا۔ باپ کیس درج کراتا تھا تو بیٹا بھی وہی مقدمہ لڑتا رہتا تھا۔

احتساب نہیں رکے گا


تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں کہاجارہا ہے کہ جمہوریت بچانے کے لیے مفاہمت کرلیں۔ ہم ساری باتیں مان لیں گے لیکن احتساب کے عمل سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

انہوں نے کہاکہ اپوزیشن کہتی ہے کہ حکومت انتقامی کارروائی کررہی ہے، اپوزیشن کےلوگوں کومقدمات بنےوہ ہمارےدورمیں نہیں بنے، ہم نے تو کوئی کیس نہیں کیا۔

عمران خان کا کہنا ہے کہ چارٹرآف ڈیمورکریسی کےنام پرمک مکاکیاگیا۔ جوجیل میں ہےوہ اکاؤنٹ کمیٹی کاسربراہ بن گیاہے دنیا میں اس بات پر ہمارا مذاق بنے گا۔ ملک کی سالمیت کیلئےاحتساب ضروری ہے،جب تک کرپٹ لوگوں کوجیل میں نہ ڈالاتب تک ملک کامستقبل خطرےمیں ہے۔

کسانوں کے لیے کیا ہے؟


وزیراعظم نے یہ بھی کہا کہ کسانوں کی پیداوار بڑھانا ہماری حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسا نظام وضع کریں گے جس سے کسان زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھا سکے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمارا کسان ترقی یافتہ ممالک کے کسان سے مقابلہ نہیں کرسکتا ، اس کی پیداوار بڑھانی ہے تاکہ وہ کم محنت سے زیادہ فائدہ حاصل کرسکے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ جب میں نے مرغی اور انڈے کی بات کی تو سب تنقید کرنا شروع ہوگئے ، جب یہی بات بل گیٹس نے کی تو سب نے تالیاں بجائیں، ہماری دیہی خواتین کے لیے یہ ایک اہم منصوبہ ہے۔

وزیروں کی کارکردگی


عمران خان کا کہنا تھا کہ وزیر وں کارکردگی بہت بہتر ہے ، جو وزیر کام نہیں کرے گا اسے گھر جانا ہوگا۔ مرا د سعید نے اچھا کام کیا اسی لیے انہیں وفاقی وزیر بنایا گیا۔

انہوں نے وزراء کو مخاطب کرکے کہا کہ آپ نے دو کام کرنے ہیں، ایک تو یہ کہ بے پناہ محنت کرنی ہے اور دوسرا یہ کے عوام کا پیسہ بچانا ہے ۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ وزیراعظم ہوتے ہوئے ایک ایک پیسا خرچ کرتے ہوئے سوچ رہے ہوتے ہیں کہ یہ غریب عوام کا پیسا ہے ، وزرا ء بھی اسی روش کو اپنائیں ۔

اقلیتوں کے حقوق


عمران خان نے کہا کہ قائدا عظم برصغیر کے سب سے عقل مند سیاست داں تھے ، انہوں اقلیتوں کو حقوق کے تحفظ کی ضمانت دی تھی۔ ہمیں پاکستان میں اقلیتوں کو برابر کا شہری بنانا ہے۔

دنیا کو بتائیں گے کہ اقلیتوں کے لیے مساوات کی فضا کیسے قائم کی جاتی ہے ، مودی کو بھی بتائیں گے کہ ہم کس طرح اقلیت کو رکھتے ہیں اور آپ کس طرح رکھتے ہیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں