The news is by your side.

Advertisement

نااہلی کیس، عمران خان نے مزید دستاویزات سپریم کورٹ میں جمع کرادیں

اسلام آباد : چئیرمین تحریک انصاف عمران خان نے نااہلی کیس میں سپریم کورٹ میں مزید دستاویزات جمع کرادیں، دستاویزات میں نیازی سروسز کے بینک اکاؤنٹ ، جمائما کی جانب سے بھیجی گئی ای میل بھی شامل ہیں۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں عمران خان نااہلی کیس کی سماعت چیف جسٹس میاں ثاقب نثارکی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کی ، عمران خان نے مزید دستاویزات جمع کرادیں، دستاویزات میں نیازی سروسز کے بینک اکاؤنٹ ، جمائما کی جانب سے بھیجی گئی ای میل اور رقم منتقل ہونے کی دستاویزات شامل ہیں جبکہ ٹھیکیدار کی جانب سے واپس کیے گئے 79 ہزار پاؤنڈز کی تفصیلات بھی موجود ہیں۔

عمران خان کی جانب سے دائر درخواست میں کہا گیا کہ نیازی سروسز کے اکاؤنٹ میں ایک لاکھ پاؤنڈ عمران خان کے نہیں تھے۔ اکاؤنٹ میں موجود رقم قانونی چارہ جوئی پر خرچ ہوئی۔

دستاویزات میں بتایا گیا کہ عمران خان نے دوہزار آٹھ کے الیکشن میں حصہ نہیں لیا تھا، اس لیے دوہزار تیرہ تک گوشوارے جمع کرانے کے پابند نہیں تھے، دوہزار تیرہ تک اکاؤنٹ میں موجود تمام رقم خرچ ہوچکی تھی، رقم شیئر ہولڈرز اور ڈائریکٹرز کے ازخود خرچ کی، 2002 سے 2007 تک کوئی رقم قابل وصول نہیں تھی۔

دستاویز میں کہا گیا ہے کہ نیازی سروسزکے اکاؤنٹ میں رقم ہوتی تو 2013 میں ظاہر کی جاتی۔


مزید پڑھیں : عمران خان نااہلی کیس کی سماعت مکمل


یاد رہے کہ عدالت نے نیازی سروسز،جمائماکوقرض واپسی کی تفصیلات طلب کی تھیں، گذشتہ سماعت میں عمران خان کی نااہلی سے متعلق کیس کی سماعت میں چیف جسٹس سپریم کورٹ میاں ثاقب نثار کا کہنا تھا عمران خان کی نااہلی سے متعلق درخواستوں میں ابھی بہت کچھ دیکھنا باقی ہے۔ درخواستوں پر دلائل مکمل ہوئے ہیں، سماعت مکمل نہیں ہوئی۔

درخواست گزارکے وکیل اکرم شیخ نے سوال کیا۔ کیس کا فیصلہ کب سنایا جائے گا چیف جسٹس نے کہا ابھی کچھ نہیں کہہ سکتے۔

یاد رہے کہ رواں سال مئی میں مسلم لیگ (ن) کے رہنما حنیف عباسی کی جانب سے عمران خان کو نااہل قرار دینے کے لیے درخواست دائر کی گئی تھی جس میں عمران خان کے اثاثہ جات کے حوالے سے سوالات اٹھائے گئے تھے اور منی ٹریل طلب کی گئی تھی۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں