The news is by your side.

Advertisement

اپوزیشن کو این آر او دینا ملک سے غداری کرنے کے مترادف ہے، عمران خان

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ملک میں ہر جگہ ذخیرہ اندوز بیٹھے ہیں، ایلیٹ کلاس خود کو قانون سے بالاتر سمجھتی ہے، اپوزیشن کو این آر او دینا ملک سے غداری کرنے کے مترادف ہے۔

نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ’میری پوری زندگی جدوجہدمیں گزری ہے،9سال کا تھا جب سے جدوجہد کر رہا ہوں، اسپتال بنایا لیکن سیاست اُس سے بھی بڑی جدوجہد تھی، 2 پارٹی سسٹم کے بعد تحریک انصاف کی تشکیل دی۔عمران خان کا کہنا تھا کہ ’جب کوشش کرتے ہیں تو اونچ نیچ آتی ہے اور مجھے اس سے کوئی خوف نہیں آتا،اصغرخان سمیت کئی لوگوں نے پارٹی بنانے میں کردار ادا کیا‘۔

وزیراعظم کا کہناتھا کہ ’اقتدارسنبھالا تو معیشت دیوالیہ ہونےکے قریب تھی اور ادارے تباہ ہوچکے تھے، ہم نے دو سال میں چلینجز اور ان کی نوعیت کو سمجھا، جب مشاہدہ کیا تو یہ بات سامنے آئی کہ ماضی میں پاکستان میں ہر ادارے کو مفلوج  کیا گیا، جب اداروں میں گیا تو معلوم ہوا کہ ادارے تباہی میں تھے‘۔

’ پاکستان مدینہ کی ریاست کےخواب کی بنیاد پربنایا گیا تھا، اس لیے ہم نے فیصلہ کیا کہ حضور اکرم ﷺ کی سیرت مبارکہ کے مضمون کو اسکولوں میں پڑھائیں گے‘۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ’مدینہ کی ریاست بہت الگ ریاست تھی، جہاں نچلے طبقے کو اوپر لایا گیا اور امیر غریب کا فرق ختم کر کے  تمام افراد کے لیے یکساں قانون اور انصاف کا معیار قائم کیا گیا،  ریاست مدینہ کےماڈل کی وجہ سے مسلمانوں نے ترقی کی‘۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ ’ایلیٹ کلاس خود کو قانون سے بالا تر سمجھتی ہے، ہمیں اُن کی سوچ بدلنے اور قانون کو یکساں کرنے کی ضرورت ہے تاکہ انصاف کا بول بالا ہو‘۔ اُن کا کہنا تھا کہ تعمیراتی شعبے پر اس لیے خصوصی توجہ دی کہ عام آدمی کا روزگار اس شعبے سے وابستہ ہے، ہم نے غربت کے خاتمے کیلئے چین کے تجربات سے استفادہ کیا۔

وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ’ہم نے ایلیٹ طبقےکی سوچ بدلنےکیلئےکرپٹ عناصر کو عدالتوں میں پیش کیا، جس پر انہوں نے شور مچایا، یہی وجہ ہے کہ ایلیٹ کلاس حکومت گرانا چاہتی ہے،  اشرافیہ نےکبھی بھی ملکی قانون اورعدلیہ کوتسلیم نہیں کیا، آج ہماری حکومت کو تین بڑے چیلنجز درپیش ہیں‘۔

پہلا چلینج

وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ’جب اقتدار سنبھالا  تو  20 ارب ڈالرز کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ تھا،  چار ہزار ارب کی آمدن میں سے 2 ہزار ارب روپے قرضوں کی مد میں دیئے گئے،  یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ ملک کو قرضوں کے بوجھ تلے دبایا گیا‘۔

دوسرا چیلنج

حکومت کو دوسرا درپیش چیلنج  توانائی سے متعلق تھا کیونکہ ماضی کی حکومت نے بجلی سےمتعلق معاہدےکیے، اسی وجہ سے ہم مہنگی بجلی بنا کر سستی فروخت کررہے ہیں، بجلی کے نرخ بڑھاتے ہیں پھر بھی مشکل ہے کیونکہ گردشی قرضے بڑھ جاتے ہیں جبکہ صنعتوں کو سبسڈی دینے سے خسارہ بڑھ جاتا ہے،  مہنگی بجلی سے سب سے زیادہ نقصان صنعتوں کو ہوا، اب حکومت اورآئی پی پیز کے درمیان معاہدے پر متفق ہونا بڑی کامیابی ہے، توانائی سے متعلق پورا پلان سامنے لارہے ہیں، دو ہفتے میں پاور سیکٹر تک کی پالیسی سامنے لے آئیں گے،

کرونا چلینج

وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ’جب کرونا کی وبا آئی تو اٹلی اور چین جیسے ممالک نے سخت لاک ڈاؤن کیا جبکہ مودی نے بھارت میں کرفیو نافذ کیا، مجھے بھی لاک ڈاؤن کا مشورہ دیا گیا مگر میں نے سمجھایا کہ پاکستان کے حالات چین یا اٹلی جیسے نہیں ہے، مودی کے لاک ڈاؤن کے نتائج منفی نکلے‘۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ پنجاب اور خیبرپختونخواہ میں اسمارٹ لاک ڈاؤن کا فیصلہ کیا، ثانیہ نشترکواحساس کیش پروگرام شروع کرنے پر داد دیتا ہوں، اس منصوبے کے ذریعے سندھ کو 32 فیصد رقم فراہم کی گئی۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ مائیکرو سافٹ کے بانی بل گیٹس نے کرونا کی روک تھام کے حوالے سے نافذ ہونے والے لاک ڈاؤن یا اقدامات کی پالیسی سمجھنے کی خواہش کا اظہار کیا اور اس بات کا اعتراف کیا کہ اسمارٹ لاک ڈاؤن نے نچلے طبقے کو محفوظ رکھا۔

وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ’اپوزیشن رہنماؤں کا بس ایک ہی مطالبہ ہے کہ انہیں این آر و دے دیا جائے، اس مقصد کے لیے وہ مجھے بلیک میل بھی کررہے ہیں، مشرف نے این آر او دیا تو ملکی قرضہ 6 ہزار ارب تھا، دو این آر او کے بعد قرضوں میں تیس ہزار ارب کا اضافہ ہوا، اپوزیشن جماعتیں 34ویں ترمیم کے ذریعے نیب کو ختم کرنا چاہتی ہیں، اپوزیشن کو این آر او دے دو تو ملک سے غداری کروں گا‘۔

عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ ’ذخیرہ اندوز تاحال پیسہ بنا رہے ہیں، آج ملک میں ہر جگہ مافیاز بنے بیٹھے ہیں، اشیائےخوردونوش کی قیمتیں مصنوعی طریقے سے اوپر نیچےکی جاتی ہیں، شوگرکمیشن رپورٹ کی فرانزک  انکوائری ہوئی تو فرنٹ مین بروکر نکلے، جنہوں نے بہت زیادہ فائدہ کمایا جبکہ شوگر ملز ایسوسی ایشن نے دھمکیاں بھی دیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں