اسلام آباد: وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اپوزیشن کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اسمبلیاں تحلیل نہیں ہوں گی ملک کا نظام آپ کےکہنے پر نہیں چل سکتا، یہ کھلونا نہیں جس سے آپ کھیلتے رہیں۔
تفصیلات کے مطابق اسلام آباد میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ آج پی ٹی آئی کے نائب صدر کی حیثیت سے نیوز کانفرنس کرتے ہوئے پی ٹی آئی کا مؤقف پی ڈی ایم کی اعلیٰ قیادت کو بتانا چاہتا ہوں، ہم آپ کے مؤقف کو مسترد کرتےہیں، ہم واضح طور پر کہہ رہےہیں کہ وزیراعظم مستعفی نہیں ہوں گے، اسمبلیاں تحلیل نہیں ہوں گی ملک کا نظام آپ کےکہنے پر نہیں چل سکتا۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ یہ نظام کھلونا نہیں جس سےآپ کھیلتے رہیں، جو ڈیڈ لائن آپ نے دی ہے ہم اسے مسترد کرتےہیں، آپ ان قوتوں کی زبان نہ بنیں جو پاکستان کو عدم استحکام کی طرف دھکیلناچاہتی ہیں۔
نیوز بریفنگ میں وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ اسپیکر قومی اسمبلی نےدونوں جماعتوں کو دعوت دیتے ہوئے کہا کہ آئے بیٹھ کرملک کو گرےلسٹ سے نکالنے کیلئےبات چیت کرتےہیں، دونوں جماعتوں نے ان مذاکرات کو نیب قانون میں ترامیم سےمشروط کردیا، انہوں نے کہا کہ فیٹف قانون پر پیشرفت کیلئے نیب کیسز میں رعایت برتناہوگی، چونتیس ترامیم پھر سامنے آگئیں، کہا گیا کہ ترامیم منظور کریں، حکومت کے لئے یہ 34ترامیم ناقابل قبول تھیں۔
اس موقع پر وزیر خارجہ نے اس تاثر کی نفی کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ہرگز نہیں گھبرائی، عوام کے سامنے تصویر کا دوسرا رخ رکھنا پڑتاہے اور رکھنا بھی چاہئے، فیصلہ تو عوام نےکرنا ہے لوگوں نے خاموشی سے دونوں بیانیے سنیں، لاہور آپ کا گڑھ ہے لاہور میں ماسوائے تین کے تمام سیٹیں آپ کی ہیں، لاہور کےشہری باشعور ہیں انہوں نے آپ کے بیانیے کو مسترد کردیا، اس سے قبل لوگوں نے گوجرانوالہ، کراچی، ملتان، کوئٹہ ،پشاور میں سنا لاہور میں مسترد کردیا۔
وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ بلاول کہتے ہیں کہ اب گفت وشنیدکا وقت گزرگیا، بیٹا یہ ناتجربہ کاری ہے، بلاول صاحب یہ تاثر دینا چاہتے ہیں کہ میں فیصلےکرتا ہوں آصف زرداری نہیں، فیصلہ کرنے کی قوت آصف زرداری ہیں، بلاول دکھانےکیلئےہیں، ابھی تک آصف زرداری نے بھی کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے، بلاول صاحب ابھی آپ کو سمجھنے اور سیکھنے کا وقت چاہیے، سیاست میں گفت و شنید ہوتی ہے، دروازے بند نہیں ہوتے، سیاست میں ہٹ دھرمی نہیں ہوتی، آپ راستہ تلاش کرتےہیں، دھمکیوں سے بات نہیں چلےگی۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ پی ڈی ایم کو13دسمبر کو خفت اٹھاناپڑی،لاہوری انکےعمل سےلاتعلق رہے،لاہورسیاست کی نبض ہے،اس نبض نےاپنافیصلہ سنادیا ہے،13دسمبرکےجلسےکےبعداسٹاک مارکیٹ اوپرچلی گئی، جلسہ کامیاب ہوتا تو اسٹاک مارکیٹ کریش کرتی نہ کہ بلند ہوتی۔
نیوز بریفنگ میں وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ اندرکی بات کہہ رہا ہوں استعفوں پر پی ڈی ایم صفوں میں اتفاق نہیں ہے، پی ڈی ایم میں اجلاسوں میں پیپلزپارٹی میں ابہام ہے،پی ڈی ایم میں ن لیگ دوسری بڑی جماعت ہے جو تقسیم ہے، ایک سوچ شہباز شریف،دوسری سوچ مریم نواز کی ہے، دونوں سوچوں میں ایک گیپ ہے جو یکجا نہیں ہوپارہیں، لانگ مارچ پر بھی پی ڈی ایم میں اب تک اتفاق نہیں ہے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں




