اسلام آباد (10 اگست 2026): وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی حالت خراب اور صحت بہتر نہیں ہے۔
اے آر وائی نیوز کے مطابق وزیر اعلیٰ کے پی سہیل آفریدی نے دیگر پارٹی رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا ہے کہ بانی پی ٹی آئی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی صحت بہتر نہیں ہے اور ان کی حالت خراب ہے۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ عمران خان کی فیملی گارنٹی دے رہی ہے کہ ملاقاات کے بعد سیاسی گفتگو نہیں کرے گی۔ ہم چاہتے ہیں بانی پی ٹی آئی کا علاج فیملی کی مرضی کے اسپتال میں ہو۔
ان کا کہنا تھا کہ عمران خان گرفتاری کے وقت سپر فٹ تھے۔ آج ان کی اس حالت کے ذمے دار انہیں گرفتار کرنے والے ہیں۔ نوجوان اس وقت غصے کی حالت میں ہیں اور وہ مزید جبر برداشت نہیں کرینگے۔ نوجوانوں کی آنکھ میں انقلاب کا جو جذبہ دیکھ رہا ہوں، یہ میں خود نہیں سنبھال پاؤں گا۔
وزیراعلیٰ کے پی نے مزید کہا کہ کل سپریم کورٹ کے سامنے دھرنا دیں گے۔ منگل اور جمعرات کو بانی پی ٹی آئی سے ملنے جائیں گے۔ اگر اس بار بھی ان سے ملاقات نہیں ہوئی تو پھر جمعرات کو ہر چوک کو ڈی چوک بنا دیں گے۔
پی ٹی آئی کے مرکزی رہنما سلمان اکرم راجا کا کہنا تھا کہ عمران خان سے براہ راست رابطہ نہیں، لیکن خبریں آ رہی ہیں کہ ان کی صحت اچھی نہیں ہے۔ بانی کی بہنوں کو بھی ان تک رسائی نہیں دی جا رہی ہے۔ بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق کوئی کھلواڑ نہیں ہونے دیا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کی صحت سے زیادہ اس وقت کوئی بات اہم نہیں ہے۔ ہمیں کاکروچ سمجھ کر ایک جھوٹی حکومت ہم پر مسلط کی گئی، لیکن اب جو سلسلہ ہم شروع کرنے جا رہے ہیں، وہ رکے گا نہیں۔
پی ٹی آئی رہنما علی محمد خان نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے ڈاکٹرز کو فوری ان تک رسائی دی جائے۔ شہباز شریف نے اسمبلی فلور پر مذاکرات کی دعوت دی تھی۔ اب مذاکرات کا اصل وقت ہے، سیاسی فیصلے مذاکرات سے ہی ہونے چاہئیں۔ سہیل آفریدی نے 27 ستمبر کی تاریخ اسی وجہ سے دی کہ مذاکرات ہو جائیں۔
بانی پی ٹی آئی سے ملاقاتیں شروع ہوئیں تو حالات بدل جائیں گے، بیرسٹر گوہر


