اسلام آباد: فرینڈ آف کورٹ بیرسٹر سلمان صفدر کی سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی رپورٹ سامنے آگئی، جس میں انکشاف کیا گیا کہ بانی پی ٹی آئی کی دائیں آنکھ کی بینائی صرف پندرہ فیصد رہ گئی۔
تفصیلات کے مطابق بانی پی ٹی آئی کی صحت اور جیل میں رہائشی سہولتوں سے متعلق فرینڈ آف کورٹ بیرسٹر سلمان صفدر کی ملاقات کے بعد تیار کی گئی سات صفحات پر مشتمل تفصیلی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرا دی گئی۔
جس میں بتایا گیا کہ بانی کی دائیں آنکھ کی بینائی اچانک اور مکمل ختم ہونے پر علاج کا عمل شروع کیا گیا ، اسپتال منتقلی انجکشن لگانے کے باوجود بانی کے مطابق انہیں 10 سے 15 فیصد ہی نظر آتا ہے، علاج بشمول انجکشن کے باوجود دائیں آنکھ کی بینائی صرف 15 فیصدرہ گئی ہے۔
میڈیکل رپورٹس کے مطابق بانی پی ٹی آئی کو ریٹینا کی سنگین بیماری لاحق ہے ، بانی کے مطابق 3 ماہ میں مجھے بینائی کم ہونے کا مسئلہ درپیش آیا تو جیل حکام نے سنجیدہ نہیں لیا، جیل حکام نے مسئلے کو ایڈریس کرنے کی کوشش بھی نہیں کی۔
رپورٹ میں کہنا تھا کہ بانی نے بتایا کہ تقریباً 3 سے 4 ماہ پہلے یعنی اکتوبر 2025 تک دونوں آنکھوں میں بینائی نارمل تھی، اس کے بعد مستقل دھندلاہٹ اور دھندلا نظر آنے کی شکایت شروع ہوئی۔
بانی پی ٹی آئی کے مطابق اطلاع بار ہا اس وقت کے جیل سپرنٹنڈنٹ عبدالغفور انجم کودی، اطلاع کے باوجود جیل حکام کی جانب سے ان شکایات کے ازالے کیلئے کوئی اقدام نہیں کیا گیا اور جیل انتظامیہ کی جانب سے 3 ماہ تک آنکھ کی تکلیف کیلئے صرف آئی ڈراپس دیئے جاتے رہے۔
بانی پی ٹی آئی نے بتایا کہ آئی ڈراپس کے استعمال کے باوجود بینائی پر کوئی اثر نہیں پڑا اور بعد ازاں دائیں آنکھ کی بینائی اچانک اور مکمل طور پر ختم ہوگئی، جس کے بعد پمز اسپتال کے ماہر چشم ڈاکٹر محمد عارف کو معائنہ کرنے کے لیے بلایا گیا اور انہیں بلڈ کلاٹ کی تشخیص ہوئی جس سے شدید نقصان پہنچا۔
بانی پی ٹی آئی نےجیل میں طبی سہولتوں اور ٹیسٹ کی باقاعدہ فراہمی پر سوال اٹھایا، ان کی آنکھوں سے پانی بہہ رہا تھا ، جسے وہ بار بار ٹشو پیپر سے صاف کر رہے تھے۔
بانی پی ٹی آئی نے بتایا کہ 5 ماہ سے وکلا سے بھی ملاقات نہیں ہوئی، وکلا سے ملاقات کے بغیر شفاف ٹرائل کا بنیادی حق متاثر ہو رہا ہے جبکہ انھوں نے بہنوں اور رشتہ داروں سے ملاقات نہ ہونے پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا اہل خانہ سے ملاقاتیں محدود ہیں اہلیہ سے ہفتہ وار ملاقات کی اجازت ہے جبکہ بیٹوں سے فون پر رابطے کی اجازت بھی انتہائی محدود ہے۔
بانی پی ٹی آئی کے مطابق انہیں سردیوں میں ایک چھوٹا ہیٹر ملتا ہے اور گرمیوں میں ان کے سیل میں حبس ہوجاتی ہے جبکہ انھوں نے مچھر اور کیڑے مکوڑے آنے کی بھی شکایت کی ساتھ ہی گرمیوں میں ٹھیک سے سو نہ پانے کا بھی شکوہ کیا۔
بانی پی ٹی آئی نے کہا انہیں گرمیوں میں ریفریجریٹر کی سہولت بھی میسر نہیں اور گرمیوں میں ملنے والا کول باکس مؤثر نہیں ہوتا گرمیوں میں صرف ایک کول باکس مہیا کیا گیاجو ہمیشہ مؤثر نہیں ہوتا۔
بانی پی ٹی آئی کےسیل میں موجود ٹی وی فعال نہیں ہے جبکہ انہیں گرمیوں میں 2، 3بار فوڈپوائزننگ ہوئی، انھوں نے پہلے کبھی صحت کو مسئلہ نہیں بنایا لیکن وہ ملاقات کے دوران واضح طور پر بروقت علاج نہ ملنے پر پریشان نظر آئے۔
بانی نے بتایا کہ 2 سال سے دانتوں کا معائنہ بھی نہیں کرایا گیا اور ان کی عمر کے مطابق باقاعدگی سے بلڈ ٹیسٹ نہیں کرائے جا رہے۔
اڈیالہ جیل کے سیل بلاک میں سخت سیکیورٹی اور 24 گھنٹے نگرانی کی جارہی ہے، سیل بلاک میں سی سی ٹی وی کیمروں اور سیکیورٹی اہلکاروں کی تعیناتی ہے۔
بانی پی ٹی آئی کو روزانہ ورزش اور چہل قدمی کے محدود اوقات میسر ہیں تاہم ان کو محدود ورزش کے آلات اور کھلی جگہ دستیاب ہے۔
رپورٹ میں بانی پی ٹی آئی کی آنکھ کے فوری معائنے کا مطالبہ کیا گیا اور کہا ذاتی ڈاکٹر فیصل سلطان اور عاصم یوسف سے معائنہ کرایا جائے۔
رپورٹ میں سفارش کی گئی کہ بانی پی ٹی آئی کا طبی معائنہ کسی ماہر ڈاکٹر سے بھی کرایا جاسکتا ہے ، عدالت وکلا سے ملاقات کے معاملے پر مداخلت کرے اور بانی پی ٹی آئی کی اہل خانہ کیساتھ بلاتعطل ملاقاتیں کرائی جائے۔
بانی کے سیل سے مچھروں اورحشرات کے خاتمے کیلئے اقدامات کیےجائیں، ان سیل میں ریفریجریٹر جیسی بنیادی ضرورت بھی فراہم کی جائے جبکہ بانی کی قید تنہائی اورٹی وی تک رسائی نہ ہونے سے کتابیں فراہم کرنے کا حکم دیا جائے۔
سپریم کورٹ میں جمع رپورٹ میں جیل حالات پرفوری توجہ کی سفارش کی گئی کہ سیل کے کچن اورصفائی کے نظام میں بہتری کی گنجائش ہے۔


