The news is by your side.

Advertisement

ملکی 37 فضائی حادثات میں 745 افراد جاں بحق

آج چترال سے اسلام آباد آنے والی پرواز کو حادثہ پیش آیا جس کے نتیجے میں طیارے میں سوار 46 افراد جاں بحق ہو گئے ہیں، طیارے میں معروف مبلغ اسلام جنید جمشید اپنی اہلیہ کے ہمراہ محو سفر تھے یہ ان کا آخری سفر ثابت ہوا۔

قیامِ پاکستان سے اب تک مختلف مقامات پر 37 فضائی حادثات میں اب تک 745 افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں، جاں بحق ہونے والے افراد میں اعلیٰ فوجی افسران، غیر ملکی مندوبین اور سول حکام کے علاوہ عام شہری بھی شامل تھے۔

پی آئی اے کی تاریخ میں پاکستان کے طیارے کو پہلا فضائی حادثہ عراق میں پیش آیا تھا جس میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا جب کہ دوسرا حادثہ 26 نومبر 1948ء کو پنجاب کے علاقے وہاڑی میں پیش آیا جس میں 21 مسافر اور5 عملے کے افراد شہید ہوئے تھے یہ پہلا فضائی حادثہ تھا جس میں جانی نقصان ہوا۔

اپنی نوعیت کا ایک اور حادثہ 20 مئی 1965 کو قاہرہ ایئرپورٹ کے رن وے پر پیش آیا جس کے نتیجے میں پی آئی اے بوئنگ 707 پر سوار 124 افراد جاں بحق ہو گئے تھے۔

پانچ سال بعد 6 اگست 1970 کو پی آئی اے کا ایف 27 ٹربو پروپ ایئر کرافٹ اسلام آباد سے تھنڈر اسٹوورم روانگی سے قبل تباہ ہوگیا تھا جس کے نتیجے میں 30 افراد جاں بحق ہو گئے۔

اسی طرح 8 دسمبر 1972 کو پی آئی اے فوکر 27 راولپنڈی میں تباہ ہوگیا تھا جس کے نتیجے میں 26 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ بیٹھے تھے۔

جانی نقصان کے حوالے سے سب دردناک حادثہ 26 نومبر 1979 کو پیش آیا تھا جب پی آئی اے کا بوئنگ 707 طیارے کو پاکستانی حاجیوں کو لے کر سعودیہ سے پاکستان آنا تھا کہ جدہ ایئر پورٹ پر حادثے کا شکار ہوگیا جس کے نتیجے میں 156 حاجی خالق حقیقی سے جا ملے تھے۔

23 اکتوبر 1986 کو پیش آنے والے اپنی نوعیت کے پہلے واقعے میں پی آئی اے کا فوکر ایف 27 پشاور ایئر پورٹ پر لینڈنگ کے دوران حادثے کا شکار ہو گیا تھا جس میں 13 افراد جاں بحق ہو گئے تا ہم اس واقعے میں 41 افراد محفوظ رہے تھے۔

17 اگست 1988 کو پاکستان کی تاریخ کا سب سے اندوہناک حادثہ پیش آیا جب صدر پاکستان ضیاء الحق سمیت اعلی ترین فوجی افسران امریکی ساختہ سی 130 میں سوار ہو کر روانہ ہی ہوئے تھے کہ اچانک جہاز میں آگ بھڑک اٹھی اور تمام افراد لقمہ اجل بن گئے۔

محض ایک سال بعد ہی 25 اگست 1989 کو پی آئی اے فوکر نے 54 افراد کو لے کر گلگت سے اڑان بھری تھی اور پھر فضاؤں میں ایسا کھویا کہ اب تک مل نہ سکا نہ تو جہاز کا ملبہ ہی بر آمد ہوا اور نہ ہی مسافروں کا کچھ پتا چل سکا۔

بیرون ملک پیش آنے والا سب سے بڑا نقصان 28 ستمبر 1992 کو رونما ہوا جب پی آئی اے کی ایئر بس اے 300 نیپال کے دار الحکومت کھٹمنڈو میں تباہ ہوگیا تھا جس کے نتیجے میں 167 افراد جاں بحق ہوگئے۔

عسکری حوالے سے جنرل ضیاء الحق کے طیارے کے حاد ثے کے بعد دوسرا بڑا سانحہ 19 فروری 2003 کو پاک ایئر فورس کے فوکر ایف 27 کو کوہاٹ میں پیش آیا جس میں ایئر مارشل مشرف علی اور ان کی اہلیہ سمیت 15 افراد جام شہادت نوش کر گئے۔

24 فروری 2004 کو چارٹرڈ طیارہ کیسنا 402 بحیرہ عرب میں گر کر تباہ ہوگیا تھا جس میں افغانستان کے وزیر برائے معدنیات، چار افغان حکام اور 3 چینی افراد اور دو پاکستانی افسران جاں بحق ہوگئے تھے۔

اسی طرح 10 جولائی 2006 کو پی آئی اے کا فوکر طیارہ ایف 27 لاہور کے کھیتوں میں گر کر تباہ ہو گیا تھا جس کے نتیجے میں 41 افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔

28 جولائی 2010 کو نجی ادارے ایئر بلو کی ایئر بس321 کو کراچی سے اسلام آباد جاتے ہوئے مارگلہ کی پہاڑیوں پر جا گرا تھا جس کے نتیجے میں 152 افراد جاں بحق ہو گئے تھے۔

صرف چار ماہ بعد ہی دہرے انجن والا طیارہ تباہ ہو گیا تھا ،5 نومبر 2010 کو پیش آنے والے اس حادثے اٹلی آئل کمپنی کے اعلی حکام سمیت 21 افراد ابدی نیند سو گئے تھے۔

28 نومبر 2010 کو روسی ساختہ طیارے آئی ایل 76 کارگو کراچی سے پرواز کے دوران ہی تباہ ہو گیا تھا جس کے نتیجے میں 12 افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔

آج کے حادثے سے قبل آخری فضائی حادثہ 20 اپریل 2012 کو نجی ایئر لائن بھوجا کے طیارے 737 کو پیش آیا تھا جس میں جہاز میں سوار 130 افراد جاں بحق ہو گئے تھے۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں