site
stats
عالمی خبریں

لندن: عربی بولنے پر دو مسلمانوں کو طیارے سے اتار دیا گیا

لندن: برطانیہ میں عربی زبان بولنے پر مسلمان نوجوان اور اس کے دوست کو طیارے سے آف لوڈ کردیا گیا، نوجوان بلاگر آدم صالح دوست کے ہمراہ لندن سے نیویارک جارہا تھا۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق لندن سے نیویارک جانے والی ڈیلٹا ایئرلائن کی ایک پرواز اڑنے سے قبل ایک نوجوان آدم صالح نے عربی زبان میں فون پر اپنی والدہ سے گفتگو کی اور ساتھ بیٹھے دوست سے بات چیت کی تو دیگر مسافر بھڑک اٹھے اور عملے سے نوجوان اور اس کے دوست کو اتارنے کا مطالبہ کردیا۔

مسافروں کے مطالبے پر پولیس نے جہاز میں آکر دونوں کی تلاشی لی اور پوچھ گچھ کی بعدازاں مسافر کو آف لوڈ کردیا گیا۔

نوجوان آدم صالح نے اپنی ویڈیو شیئر کی جس میں آدم نے کہا کہ مختلف زبان بولنے سے دیگر مسافروں کو کیا تکلیف پہنچی؟ ہمیں محض مختلف زبان بونے پر جہاز سے آف لوڈ کیا جارہا ہیے۔

نوجوان نے یہ فقرہ کئی بار دہرایا کہ مجھے اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آریا کہ ہمیں طیارے سے اتارا جارہا ہے، اس نے جہاز کے عملے اور مسافروں سے کی گئی گفتگو کی ویڈیو ٹوئٹر پر پوسٹ کی جو جہاز سے اترنے کے بعد ختم ہوئی۔

آدم صالح نے اپنی یہ ویڈیو اور دیگر تفصیلات ٹوئٹر پر پوسٹ کیں اور بتایا کہ ہمیں جہاز سے اتار کر ایک بار پھر چیکنگ کی گئی بعدازاں کافی دیر تک ایئرپورٹ کے لاؤنج میں بٹھایا گیا،ہم دوسری فلائٹ سے نیویارک کے لیے روانہ ہوئے، میں جلد اپنے وکیل کے ذریعے ایئرلائن کے خلاف عدالت سے رجوع کروں گا۔

یوٹیوب پر چینل چلانے والے نوجوان بلاگر نے ٹوئٹر پر عوام سے اپیل کی کہ وہ اس ہتک آمیز رویے پر ڈیلٹا ایئرلائن کا بائیکاٹ کریں۔

دوسری جانب ڈیلٹا ایئرلائن کی انتظامیہ نے موقف اختیار کیا ہےکہ ان دو مسافروں کی موجودگی پر طیارے میں بیٹھے 20 سے زائد مسافروں نے تکلیف کا اظہار کیا جس کے سبب ان دومسافروں کا آف لوڈ کیا گیا تاہم انہیں دوبارہ طیارے میں جانے کی اجازت دی گئی تاہم دونوں مسافروں نے اس پرواز سے روانگی سے انکار کیا جس پر انہیں دوسری پرواز سے نیویارک روانہ کردیا گیا۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top