سعودی عرب میں‌ 4 برس کے دوران 7662 پاکستانی شہری گرفتار ARYNews.tv
The news is by your side.

Advertisement

سعودی عرب: 4 برس کے دوران 7662 پاکستانی گرفتار،فہرست تیار

اسلام آباد: وزارت خارجہ پاکستان نے سعودی عرب میں قید اپنے باشندوں کی رہائی کے لیے فہرستیں تیار کرلیں، 4 برس کے دوران 7ہزار 662 پاکستانی شہریوں کو گرفتار کیا گیا، فہرستیں جلد سعودی حکام کے حوالے کی جائیں گی۔

arrest

تفصیلات کے مطابق سعودی عرب میں قید ہزاروں پاکستانیوں کی پے در پے اپیلوں کے بعد بالآخر حکومت پاکستان ان کی مدد کے لیے سنجیدہ ہوگئی، قیدیوں کی رہائی اور انہیں قانونی مدد فراہم کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے وزارت خارجہ نے سعودی عرب کی جیلوں میں قید پاکستان قیدیوں کی فہرست تیار کرلی۔

    sa-1

سرکاری اعدادو شمار کے مطابق سعودی عرب میں گزشتہ 4 برس کے دوران 7662 پاکستانی شہری گرفتار کیے گئے ان میں 3612 ریاض اور 4050 جدہ میں گرفتار ہوئے۔

sa-2

سعودی عرب میں پاکستانی باشندوں کی سب سے زیادہ گرفتاریاں سال 2013ء میں ہوئیں جو کہ جدہ میں کی گئیں جن کی تعداد 1001 ہے اسی طرح رواں سال سب سے زیادہ گرفتاریاں ریاض میں ہوئیں جس میں 1016 پاکستانی شہریوں کو گرفتار کیا گیا۔

sa-3

اطلاعات ہیں کہ پاکستانی شہری مختلف نوعیت کے مقدمات میں گرفتار ہیں تاہم عربی زبان سے عدم واقفیت کے سبب انہیں اپنی مسائل بتانے، قانونی جنگ لڑنے اور اپنا موقف پیش کرنے میں شدید دشواری کا سامنا ہے۔

sa-4

وزارت خارجہ کے ذرائع کے مطابق قیدی پاکستانیوں کی مشکلات کو حل کرنے کے لیے انہیں مترجم کی سہولت دینے پر بھی غور جاری ہے ۔

sa-5

حکومت پاکستان ایک اور رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سال 2012 سے سال 2015 کے تین سال کے مختصر عرصے کے دوران تقربیاً ڈھائی لاکھ پاکستانی باشندوں کو  سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور ایران سے ملک بدر کیا گیا اور وہ وطن واپس پہنچے۔

sa-6


یہ پڑھیں: تین برس میں ڈھائی لاکھ پاکستانی ڈی پورٹ


 رپورٹ کے مطابق سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور ایران کے علاوہ جن ممالک سے پاکستانیوں کو نکالا گیا ان میں عمان، یونان، برطانیہ اور ملائشیا بھی شامل ہیں، مجموعی طور پر2 لاکھ 24 ہزار870 پاکستانی ملک بدر ہونے کے بعد وطن واپس پہنچ چکے ہیں جن میں اکثریت کا تعلق مزدور طبقے سے ہے جو کہ صوبہ پنجاب کے رہائشی ہیں۔
sa-7
saudi-police

یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب میں سائبر قانون کی خلاف ورزی سے بچیں


Comments

comments

یہ بھی پڑھیں