The news is by your side.

Advertisement

بھارت میں ہر گھنٹے میں ایک طالب علم خود کشی کرتا ہے

نئی دہلی : بھارت میں خود کشی کرنے والے طالب علموں کی شرح میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے ،  ترقی کے تمام دعووؤں کے باوجود مایوسی، غیر یقینی مستقبل اور دیگر اسباب کی وجہ سے ہر ایک گھنٹے میں ایک طالب علم موت کو گلے لگا رہا ہے۔

جرمن نشریاتی ادارے ڈوئچے ویلے کے مطابق بھارتی تعلیمی اداروں میں طلبہ کی خودکشی کا سلسلہ جاری ہے ،  حال ہی میں انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کانپور میں  پی ایچ ڈی مکینیکل انجینئرنگ کے طالب علم بھیم سنگھ نے خودکشی کر لی تھی ، شبہ ظاہر کیا جارہا تھا کہ پڑھائی کے دباو کی وجہ سے بھیم سنگھ  انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور ہوئے ۔

اسی طرح ایک اور واقعہ راجھستان کے کوٹہ میں پیش آیا ،  انجینئرنگ کے داخلہ  کیلئے  امتحان کی تیار ی کرنے والے  ایک طالب علم رشبھ کمار نے آج اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا۔

خودکشی کے بعد ایک نوٹ ملا جس  پر لکھا تھا کہ “میں زندگی سے پریشان ہوگیا ہوں، اب جینا نہیں چاہتا ، دوسری دنیا میں جا رہا ہوں”۔

جرمن نشریاتی ادارے کا کہنا ہے کہ طلبہ کے خودکشی کے مختلف اسباب ہوسکتے ہیں تاہم پڑھائی کا دباؤ اور غیر یقینی کیریئر سب سے اہم ہیں، بعض طلبہ ریگنگ کی وجہ سے پریشان ہوکر اپنی زندگی کا خاتمہ کرلیتے ہیں جبکہ طالبات چھیڑ خانی سے تنگ آکر موت کو گلے لگا لیتی ہے لیکن افسوس کی بات ہیں کہ تعلیمی ادارے اپنی بدنامی کی وجہ سے ایسے جرائم پر پردہ ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں، جس کے باعث ملزم بڑی مشکل سے قانون کی گرفت میں آپاتے ہیں۔

بین الاقوامی جریدے لانسیٹ کے مطابق بھارت میں پندرہ سے انتیس برس کی عمر کے نوجوانوں میں خودکشی کی شرح دنیا میں سب سے زیادہ ہے، ماہرین سماجیات کا کہنا ہے کہ اس خطرناک صورت حال پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کی رپورٹ کے مطابق ملک میں ہر روز بیس سے زائد طلبہ خودکشی کر لیتے ہیں گویا کہ تقریباً ہر ایک گھنٹے میں ایک طالب علم اپنی زندگی کا چراغ گل کر رہا ہے، 2015ء میں صوبہ مہاراشٹر میں 1230اور تامل ناڈو میں 955 طلبہ نے خودکشی کی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ امتحانات اور کیریئر میں ناکامی کی وجہ سے طلبہ میں مایوسی پیدا ہو رہی ہے، انہیں بعض اوقات نہ تو خاندان کی طر ف سے مدد مل پاتی ہے اور نہ ہی سماجی ادارے ان کی مدد کرتے ہیں، بھارت میں پروفیشنل مدد حاصل کرنا بھی مشکل ہے، بھارت دماغی صحت کے شعبے میں بنگلہ دیش سے بھی کم خرچ کرتا ہے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں