The news is by your side.

Advertisement

برطانوی شاہی خاندان میں ساس بہو کے جھگڑے عروج پر

لندن: برطانوی شاہی خاندان میں ساس بہو، دیورانی جیٹھانی کے جھگڑے عروج پر پہنچ گئے۔

تفصیلات کے مطابق شاہی خاندان چھوڑنے والے شہزادہ ہیری کی اہلیہ میگھن مارکل نے کہا ہے کہ جب وہ شاہی خاندان کا حصہ تھیں، اس دوران شاہی خاندان کے افراد نے ان کی ویڈیوز لیک کی تھیں۔

ایک انٹرویو میں انھوں نے کہا کہ ان کی ساس کمیلا پارکر، جیٹھانی کیٹ مڈلٹن اور جیٹھ شہزادہ ولیم نے ان کی ویڈیوز لیک کر کے پریس کو جاری کی گئی تھیں۔

واضح رہے کہ میگھن مارکل کے اس بیان سے دو ہی دن قبل برطانوی اخبار ٹائمز نے ایک تہلکہ خیز رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ میگھن مارکل نے محل میں قیام کے دوران شاہی دربار کے عملے کو دھمکیاں دیں اور ہراساں کیا، اس واقعے کی بکنگھم پیلس تحقیقات بھی کر رہا ہے۔

شہزادہ ہیری اور میگھن کے نئے انٹرویو پر برطانوی میڈیا بے چین

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ 2018 میں کنگسٹن پیلس میں قیام کے دوران میگھن نے شاہی عملے کے 2 افراد کو محل سے بے دخل کر دیا تھا جب کہ تیسرے اسٹاف کے اعتماد کو ٹھیس پہنچایا تھا۔

یاد رہے کہ اس سے قبل میگھن معروف امریکی ٹی وی ہوسٹ اوپرا ونفرے کو دیے گئے ایک انٹرویو میں برطانوی شاہی خاندان کو تنبیہ کی تھی کہ وہ ان کے بارے میں جھوٹ بولنا بند کر دے ورنہ وہ اور ان کے شوہر اپنی خاموشی توڑ دیں گے۔

میگھن کا کہنا تھا بکنگھم پیلس ان کے بارے میں مسلسل غلط بیانی سے کام لے رہا ہے، لیکن اب ان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو رہا ہے۔

انھوں نے انٹرویو میں کہا وہ اور ان کے شوہر پہلے ہی شاہی حیثیت سے دست بردار ہو چکے ہیں اور وہ بہت سے اعزازات سے محروم بھی کر دیے گئے ہیں، نہیں معلوم شاہی خاندان اب ان سے کیا توقع کرتا ہے۔

میگھن نے کہا ہم ابھی بھی خاموش ہیں، لیکن اگر ان کے خلاف پروپیگنڈا بند نہیں کیا گیا تو یہ خاموشی زیادہ دیر برقرار نہیں رہ سکے گی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں