The news is by your side.

Advertisement

نوشہرہ، 19 سالہ حاملہ لڑکی پر سسرالیوں کا مبینہ تشدد

نوشہرہ: خیبرپختونخوا کے ضلع نوشہرہ میں 19 سالہ حاملہ لڑکی پر چوری کا الزام لگا کر سسرالیوں اور ایس ایچ او نے مبینہ تشدد کا نشانہ بنا ڈالا۔

اے آر وائی نیوز کی رپورٹ کے مطابق نوشہرہ کی تحصیل پبی کے علاقے شاہ کوٹ پایان میں 19 سالہ حاملہ لڑکی حدیقہ پر نقد رقم اور سونا چوری کرنے کا الزام لگا کر سسرالیوں اور جلوزئی پولیس کے ایس ایچ او نے مبینہ تشدد کا نشانہ بنا ڈالا۔

مبینہ تشدد کے واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد ممبر صوبائی اسمبلی سومی فلک نیاز داد رسی اور حقائق جاننے کے لیے شاہ کوٹ پایان محلہ چام خیل پہنچ گئیں۔

متاثرہ خاتون نے ممبر صوبائی اسمبلی کو روداد سناتے ہوئے بتایا کہ تھانہ جلوزئی کے ایس ایچ او اور خاتون پولیس کانسٹیبل اور سسرالیوں کی جانب سے تھانے میں تشدد کیا گیا۔

متاثرہ لڑکی حدیقہ نے دیور پر غیراخلاقی حرکت کرنے کا الزام بھی عائد کیا اور کہا کہ سسرالیوں نے ایس ایچ او عبدالولی اور لیڈی کانسٹیبل کو بلا کر مجھے تھانے بھجوادیا اور وہاں بھی مار پیٹ کر معاملے سے پیچھے ہٹنے کے لیے زور دیا گیا۔

ممبر صوبائی اسمبلی نے متاثرہ خاتون سے ملاقات کرکے حکومت کی جانب سے انصاف کی فراہمی کی یقین دہانی کرائی۔

سومی فلک نیاز نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان اور آئی جی پولیس خیبر پختونخوا سے جلوزئی تھانے کے عملے کو معطل کرکے واقعے کی غیر جانبدارانہ انکوائری کا مطالبہ کیا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں