The news is by your side.

Advertisement

ماضی میں بھی نوازشریف کا اثاثے بطور ضمانت جمع کرائے جانے کا انکشاف

اسلام آباد: سابق وزیراعظم نوازشریف کے ماضی میں بھی بیرون ملک جانے کےلیے اثاثے بطور ضمانت جمع کرائے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔

تفصیلات کے مطابق سابق ڈی جی نیب کرنل(ر) شہزاد انوربھٹی نے اے آر وائی نیوز کے پروگرام ’پاور پلے میں گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ نے نوازشریف نے سنہ 2000میں باہرجاتےہوئےاثاثےبطورضمانت رکھوائےتھے، نوازشریف نےماڈل ٹاؤن کاگھر، جائیداد اور اتفاق فاؤنڈری بطورضمانت دی تھی۔

شہزاد انوربھٹی کے بقول نوازشریف ہرماہ رقم بھی جمع کرایا کرتےتھے لیکن جب نوازشریف پاکستان واپس آئےتوعدالت کےذریعےجائیداد واپس لےلی۔

ان کا کہنا تھا کہ نوازشریف ہرماہ جورقم جمع کراتےتھےوہ بھی واپس لے لی تھی۔

سابق ڈی جی نے کہا کہ نیب نےنوازشریف کانام ای سی ایل میں ڈلوایاتھا اور اب نیب نوازشریف کانام ای سی ایل سےنکالنےکی حمایت نہیں کرسکتی، نیب کاقانون ایک ہی بات کہتاہےکہ پلی بارگین کریں، یہ کرپشن کاکیس ہےجو نیب قانون کےمطابق حل ہوگا۔

شہزاد انوربھٹی نے کہا کہ عدالت نوازشریف کوایک کیس میں مجرم قراردے چکی ہےاور نوازشریف کاکیس اب قانون کےمطابق ہی چلےگا۔

یہ بھی پڑھیں: کابینہ نے نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی منظوری دے دی

واضح رہے کہ وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں سابق وزیراعظم نوازشریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی مشروط کی منظوری دے دی گئی، نواز شریف کو باہر جانے کے لئے سیکیورٹی بانڈز دینا ہوں گے۔

سابق وزیراعظم نوازشریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کے معاملے پر نیب کی شرائط بھی سامنے آگئی ہیں، نیب ذرائع کا کہنا ہے کہ نوازشریف کیس کی مالیت کے برابر رقم یا پراپرٹی بطورگارنٹی جمع کرائیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ بیرون ملک جانے کے بعد ملزم پرکوئی اختیارنہیں چلتا، ماضی میں بھی لوگ بیرون ملک گئے اورواپس نہیں آئے اور نہ ہی آج تک کوئی ادارہ ان کےحوالے سے کچھ نہیں کرسکا۔

العزیزیہ کیس میں نوازشریف پرمجموعی ساڑھے6ارب روپےجرمانہ کیا گیا تھا اور اب نوازشریف کو بیرون ملک جانےکیلئےاتنی ہی رقم اداکرناہوگی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں