The news is by your side.

Advertisement

گاڑیوں کے ٹوکن ٹیکس میں مبینہ غیر آئینی اضافہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج

اسلام آباد: گاڑیوں کے ٹوکن ٹیکس میں مبینہ غیر آئینی اضافہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا گیا، کیس کی سماعت کرتے ہوئے عدالت نے وفاق اور ایف بی آر کو نوٹس جاری کر دیا۔

تفصیلات کے مطابق گاڑیوں کے ٹوکن ٹیکس میں اضافے کے کیس کی سماعت کرتے ہوئے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن آفیسر اسلام آباد کو 26 نومبر کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا۔

ٹوکن ٹیکس میں اضافے کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں دی گئی درخواست میں موٹر وہیکل ٹیکسیشن ایکٹ 1958 میں ترمیم کو چیلنج کیا گیا ہے، کیس کی سماعت کے لیے درخواست گزار کی جانب سے چوہدری عبد الرحمان ایڈووکیٹ پیش ہوئے، انھوں نے کہا ٹوکن ٹیکس شیڈول میں ترمیم کا حامل 30 جون کا نوٹیفکیشن غیر آئینی ہے۔

وکیل کا کہنا تھا ایک ہزار سی سی تک گاڑیوں کا لائف ٹائم ٹوکن ٹیکس 31 ہزار کر دیا گیا ہے، ٹوکن ٹیکس 10 ہزاراور 21 ہزار دیگر ٹیکسز کے نام پر لیے جا رہے ہیں، بڑی گاڑیوں کے لیے ٹیکس کی مد میں ایسی کوئی پابندی نہیں لگائی گئی، ہزار سی سی گاڑی والوں کو غیر قانونی ٹیکس کے لیے مجبور کیا جا رہا ہے۔

وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ٹوکن ٹیکس شیڈول میں تبدیلی غیر آئینی اور بنیادی حقوق کے خلاف ہے، اس لیے عدالت سے استدعا ہے کہ حکومت کا 30 جون کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار دیا جائے، اور ایکسائز والوں کو غیر قانونی ٹیکس وصولی سے روکا جائے۔

دریں اثنا، عدالت نے وفاق اور ایف بی آر کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کیس پر سماعت 26 نومبر تک ملتوی کر دی، اور ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن آفیسر اسلام آباد کو 26 نومبر کو ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم دے دیا۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں